پشاور (خصوصی رپورٹ): ایبٹ آباد سمیت خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں نجی تعلیمی اداروں کو 15 جولائی 2026 تک بند کرنے سے متعلق مبینہ نوٹس جاری کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس کے باعث والدین، طلبہ اور تعلیمی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق متعلقہ حکام کی جانب سے بعض نجی تعلیمی اداروں کو تحریری طور پر آگاہ کیا گیا ہے کہ وہ 15 جولائی 2026 تک اپنے اسکولز، کالجز اور دیگر تعلیمی ادارے بند کر دیں، بصورت دیگر ان کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق صرف ایبٹ آباد میں ایسے اداروں میں تقریباً 25 ہزار طلبہ و طالبات زیر تعلیم ہیں، جبکہ ان اداروں میں 2 ہزار سے زائد تدریسی اور انتظامی عملہ خدمات انجام دے رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق متاثر ہونے والے اداروں میں 40 سے زائد اسکولز، کالجز اور نرسریاں شامل ہیں۔
والدین اور شہریوں نے اس فیصلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر تعلیمی ادارے بند کیے گئے تو طلبہ کا تعلیمی سال متاثر ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بہت سے والدین کے لیے اپنے بچوں کو دیگر شہروں کے تعلیمی اداروں میں منتقل کرنا ممکن نہیں ہوگا۔
متاثرہ فریقین نے صوبائی حکومت اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے کا ازسرِ نو جائزہ لیا جائے اور طلبہ کے تعلیمی مستقبل کو مدنظر رکھتے ہوئے مناسب فیصلہ کیا جائے۔


