نان پی ٹی اے فونز کی رجسٹریشن کیلئے اقساط کا نظام لانے کی تیاری، قائمہ کمیٹی خزانہ کے اجلاس میں ایف بی آر نے موبائل ٹیکسز پر بریفنگ دی۔
اسلام آباد: پاکستان میں سمارٹ فونز استعمال کرنے والے کروڑوں صارفین کے لیے بڑی خوشخبری سامنے آئی ہے۔ ملک میں سمارٹ فونز پر عائد ریگولیٹری ڈیوٹی مکمل طور پر ختم کر دی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق نان پی ٹی اے موبائل فونز کو رجسٹرڈ کرانے کے لیے اقساط کا آسان نظام متعارف کرانے پر بھی کام شروع کر دیا گیا ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی کے رکن قومی اسمبلی قاسم گیلانی نے سوشل میڈیا پر اس پیشرفت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ سمارٹ فونز پر ریگولیٹری ڈیوٹی ختم کر دی گئی ہے۔ ان کے مطابق یہ فیصلہ عوام کو سستی ٹیکنالوجی اور رابطوں کی بہتر سہولت فراہم کرنے کی طرف مثبت قدم ہے۔
قاسم گیلانی نے مزید بتایا کہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے پی ٹی اے ٹیکسز کو اقساط میں ادا کرنے کے منصوبے پر بھی غور شروع کر دیا ہے۔
سید نوید قمر کی زیر صدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اہم اجلاس ہوا، جس میں موبائل فونز پر عائد ٹیکسز اور نان پی ٹی اے فونز کی رجسٹریشن سے متعلق معاملات زیر غور آئے۔
اجلاس کے دوران کمیٹی ارکان نے نشاندہی کی کہ پاکستانی مارکیٹ میں لاکھوں موبائل فونز نان پی ٹی اے موجود ہیں، کیونکہ عوام بھاری ٹیکس ایک ساتھ ادا کرنے کی سکت نہیں رکھتے۔
کمیٹی ارکان نے تجویز دی کہ موبائل فونز کو رجسٹرڈ کرانے کے لیے اقساط کا نظام متعارف کرایا جائے، تاکہ صارفین آسانی سے اپنے فونز قانونی طور پر رجسٹرڈ کرا سکیں۔
اجلاس میں ایف بی آر کو ہدایت دی گئی کہ وہ پی ٹی اے کے ساتھ مل کر موبائل ٹیکسز کی اقساط میں ادائیگی کا جامع اور آسان پلان تیار کرے۔
ایف بی آر حکام نے اجلاس میں درآمدی اور مقامی طور پر تیار ہونے والے موبائل فونز پر موجودہ ٹیکس شرح کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔
بریفنگ کے مطابق موبائل فون کی قیمت بڑھنے کے ساتھ ٹیکس کی شرح بھی بڑھتی ہے۔ 30 ڈالر تک کے انتہائی سستے موبائل فونز پر ٹیکس شرح 25 فیصد ہے، جبکہ 31 سے 100 ڈالر تک کے فونز پر ٹیکس شرح 36 فیصد ہے۔
ایف بی آر کے مطابق پاکستان میں آنے والے 44 فیصد درآمدی فونز اسی کم ٹیکس والی کیٹیگری میں شامل ہیں۔
اسی طرح 101 سے 200 ڈالر تک کے درآمدی فونز پر ٹیکس شرح 40 فیصد، 201 سے 350 ڈالر تک کے فونز پر مؤثر ٹیکس شرح 38 فیصد، جبکہ 351 سے 500 ڈالر تک کے سمارٹ فونز پر ٹیکس شرح 40 فیصد مقرر ہے۔
500 ڈالر سے زائد قیمت والے فلیگ شپ اور مہنگے بین الاقوامی سمارٹ فونز پر مؤثر ٹیکس شرح سب سے زیادہ، یعنی 41 فیصد ہے۔
ایف بی آر حکام نے بتایا کہ مختلف کیٹیگریز کے باعث فی موبائل فون ٹیکس کی رقم کم از کم 1500 روپے سے شروع ہوتی ہے اور مہنگے فونز پر یہ رقم بڑھ کر 1 لاکھ 41 ہزار 500 روپے تک پہنچ جاتی ہے۔
تمام درآمدی فونز کی کیٹیگریز کو ملا کر ملک میں اس وقت اوسط مؤثر ٹیکس شرح 39.6 فیصد بنتی ہے۔
ماہرین کے مطابق سمارٹ فونز پر ریگولیٹری ڈیوٹی ختم ہونے اور نان پی ٹی اے فونز کی رجسٹریشن کے لیے اقساط کا نظام آنے سے صارفین کو بڑا ریلیف مل سکتا ہے۔


