چونکہ قانون سازی کا اختیار مقننہ کو حاصل ہے کہ وہ عوامی نمائندگی کے لیے جماعتی یا غیر جماعتی نظام میں سے کسی ایک کا انتخاب کرے، بشرطیکہ یہ انتخاب آئین کے بنیادی حقوق سے متصادم نہ ہو۔ بلدیاتی انتخابات کے جماعتی اور غیر جماعتی بنیاد پر کروائے جانے والے عمل پر جب ہم قانون سے راہنمائی لینے کے لئیے گلگت بلتستان لوکل گورنمنٹ ایکٹ، 2014 کا مطالعہ کرتے ہیں تو اس میں بلدیاتی انتخابات کے جماعتی بنیادوں پر انعقاد کو واضح طور پر بیان کیا گیا ہے۔خصوصاً دفعہ 18(1) میں درج ہے:
"The election to the Local Councils shall be held on party basis as regulated by the Chief Election Commissioner.”
اس شق میں لفظ "shall” استعمال ہوا ہے، جو قانونی اصطلاح میں ایک لازمی حکم کو ظاہر کرتا ہے، نہ کہ محض ایک اختیاری تجویز کو۔ اس بنا پر بلدیاتی انتخابات جماعتی بنیادوں پر ہوں گے؛ لہٰذا موجودہ قانون کی روشنی میں گلگت بلتستان میں بلدیاتی انتخابات کا جماعتی بنیادوں پر انعقاد ایک قانونی تقاضا ہے، نہ کہ الیکشن کمیشن یا حکومت کی صوابدید۔
البتہ اگر یہ سوال اٹھایا جائے کہ آیا اس شق کی نوعیت لازمی ہے یا محض رہنما تو اس کا حتمی تعین عدالتی تشریح سے ہوتا ہے۔ تاہم لفظ "shall” کے استعمال اور دفعہ 18(1) کی عبارت کو دیکھتے ہوئے غالب قانونی رائے یہی ہوگی کہ جماعتی بنیادوں پر انتخابات کرانا لازم ہے، جب تک کہ قانون میں ترمیم یا کسی مجاز عدالت کی جانب سے اس کی مختلف تشریح نہ کی جائے۔
اب یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہیکہ بہت سی شخصیات اپنے نظریات اور عوامی مقبولیت کی بنیاد پر جماعتی وابستگیوں سے بالاتر ہوتے ہیں تو ایسے میں یہ قانون ان کا جمہوری حق پر قدغن لگانے کے مترادف ہے یا نہیں. کیا بلدیاتی انتخابات جماعتی بنیادوں پر کروانا جمہوریت کی روح کیخلاف ہے یا نہیں جبکہ صوبائی و قومی اسمبلی انتخابات میں جماعتی پابندی لازم نہیں ایسے میں بلدیاتی انتخابات جماعتی بنیاد پر لازم کیوں؟
یہ سوالات جب ہم سیاسی جماعتوں کے سامنے رکھتے ہیں تو وہ جماعتی بنیاد پر بلدیاتی، صوبائی، قومی انتخابات کے حق میں کہتے ہیکہ سیاسی جماعتیں جمہوری نظام کا بنیادی ستون ہیں اور انتخابات کا تعلق بھی جمہوری نظام سے جڑا ہوا ہے عوام بلدیاتی، صوبائی، قومی انتخابات میں امیدواروں کے ساتھ ان کے ساتھ منسلک سیاسی جماعتوں کا منشور اور کارکردگی کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں، عوامی سطح پر ووٹ بینک کا بڑا حصہ سیاسی جماعتوں کے ساتھ وابستگی کا ہوتا ہے اور اگر ہم احتسابی عمل کی بات کرے تو سیاسی جماعتیں ہی اپنے منتخب نمائندوں کی کاکردگی کی بنیاد پر ان کا مواخذہ کر سکتی ہے اسی احتسابی عمل ہی کی بنیاد پر منتخب نمائندوں کی ترجیح عوامی نوعیت کے مسائل کو حل کرنا ہی ہوتے ہیں۔
اور یہی سوالات جب ہم سماج کے مختلف اسٹیک ہولڈرز اور غیر جماعتی سیاسی کرداروں کے سامنے رکھتے ہیں تو ان کا عمومی مئوقف سیاسی جماعتوں کے مئوقف کے برخلاف ہوتا ہے۔ جماعتی نظام کے برخلاف سماج کے دیگر اسٹیک ہولڈرز کا کہنا ہیکہ بہت سے باصلاحیت اور عوامی مقبولیت رکھنے والے افراد کسی سیاسی جماعت سے وابستہ نہیں ہوتے ہیں وہ اپنی سوچ، نظریہ اور عوامی مقبولیت کی بنیاد پر اس پوزیشن میں ہوتے ہیکہ وہ منتخب ہوکر بغیر جماعتی وابستگی کے وہ عوامی نمائندگی کا بھرپور مظاہرہ کرسکتے ہیں اور سیاسی جماعتیں ان آزاد عوامی نمائندوں کے لئیے رکاوٹ بنتی ہیں۔
بلدیاتی انتخابات جماعتی بنیادوں پر درحقیقت مقامی مسائل کے بجائے قومی یا صوبائی سیاسی تقسیم کو فروغ دیتے ہیں اس سے آزاد امیدواروں کے سیاسی حقوق اور عوام کے آزادانہ انتخاب کے دائرے میں عملی طور پر کمی واقع ہوتی ہے۔
سیاسی جماعتیں دوہرا معیار اپناتی ہیں قومی و صوبائی انتخابات میں غیر جماعتی بنیاد پر بھی شخصیات حصہ لے سکتے ہیں تو پھر بلدیات میں جماعتی بنیاد لازم کیوں درحقیقت سیاسی جماعتیں خود یہ نہیں چاہتی کہ اختیارات نچلی سطح پر منتقل ہوں تو اسی لئیے اول وہ بلدیاتی انتخابات کے راستے میں خود رکاوٹیں کھڑی کرتے ہیں نیز یہ کہ الیکشن کمیشن کو حاصل اختیارات کو مدنظر رکھتے ہوئے سیاسی جماعتوں نے بلدیات کو جماعتی بنیاد پر اس لئیے قانون سازی کے ذریعے لازم قرار دیا کہ اگر الیکشن کمیشن کبھی اپنے اختیارات کو بروئے کار لا کر بلدیاتی انتخابات کروا بھی لے تو نچلی سطح پر اختیارات منتقلی ان سیاسی جماعتوں کے منظور نظر کرداروں کو تفویض یوں بلدیات میں منتخب کردار حقیقی عوامی نمائندگی کے بجائے اس جماعت کے محض ڈمی نمائندوں کے طور پر اپنا کردار نبھائیں گے۔
جماعتی اور غیر جماعتی بنیاد انتخابات مکالمہ میں دونوں اطراف سے مضبوط دلائل پیش کئے جاتے ہیں چونکہ قانون میں تشریح موجود ہے تو اس بنیاد پر الیکشن کمیشن جماعتی بنیاد پر بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کرانے کا پابند ہے۔
بحیثیت صحافی، معاشرتی فرد کی حیثیت سے میرے رائے میں غیر جماعتی بنیاد کے حق میں پیش کئے جانے والے دلائل زیادہ مضبوط ہیں۔ ہاں مگر اس قانون کو اس مؤقف کے ساتھ آج تک کسی فرد، تنظیم یا ادارہ نے عدالت میں چیلنج نہیں کیا، جماعتی بنیاد کے اس قانون کو چیلنج کیا جاسکتا ہے اوپر ذکر کردہ دلائل نیز اس میں مزید نکات بھی شامل کئے جاسکتے ہیں کہ جماعتی بنیادوں پر انتخابات:
عوام کے آزادانہ انتخاب کے حق کو محدود کرتے ہیں؛
آئین میں مذکور جمہوری اصولوں اور مساوات کے تقاضوں سے متصادم ہیں؛ یا آزاد امیدواروں کے سیاسی حقوق پر غیر متناسب پابندی عائد کرتے ہیں۔


