ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت اسلام آباد نے ٹک ٹاکر ثناء یوسف قتل کیس کا محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے ملزم عمر حیات کو جرم ثابت ہونے پر سزائے اور جرمانہ سنا دیا ۔
اسلام آباد: ایڈیشنل سیشن جج افضل مجوکا نے کیس کا فیصلہ سنایا، عدالت نے ملزم کو ڈکیتی کی دفعہ میں 10 سال قید اور 20 لاکھ روپے جرمانہ جبکہ گھر میں گھسنے کی دفعات کے تحت 10 سال قید کی سزا سنائی ۔
سماعت کے آغاز پر سرکاری وکیل راجہ نوید حسین کیانی عدالت میں پیش ہوئے، جبکہ جج نے ملزم سے مختلف سوالات کیے، ابتدائی طور پر ملزم نے اپنی عمر بتانے سمیت بیشتر سوالات کے جواب دینے سے انکار کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ وہ اپنے وکیل کی موجودگی کے بغیر کوئی بیان نہیں دے گا ۔
عدالت نے واضح کیا کہ دفعہ 342 کا بیان جج اور ملزم کے درمیان براہِ راست مکالمہ ہوتا ہے اور اس کے لیے وکیل کی موجودگی ضروری نہیں، عدالت کی جانب سے ملزم سے استفسار کیا گیا کہ آیا اس نے عمر حیات کے نام سے گاڑی کرائے پر لی، کیا وہ ثناء یوسف کے گھر گیا، کیا اس نے فائرنگ کی، موبائل فون لیا اور جائے وقوعہ سے فرار ہوا، تاہم ملزم مسلسل وکیل کی عدم موجودگی کا جواز دیتا رہا ۔
وکیل صفائی کی موجودگی میں ملزم نے اپنی عمر 23 سال بتائی، تاہم قتل میں ملوث ہونے کی مکمل تردید کرتے ہوئے کہا کہ وہ نہ اسلام آباد آیا، نہ ثناء یوسف کو جانتا ہے، اور نہ ہی اس کا اس مقدمے سے کوئی تعلق ہے ۔
مرکزی ملزم نے مؤقف اپنایا کہ گاڑی کرائے پر لینے کا معاہدہ جعلی ہے اور استغاثہ کے کیس کو مضبوط بنانے کے لیے تیار کیا گیا ۔
ملزم نے مزید دعویٰ کیا کہ اسے 3 جون کو جڑانوالہ سے صرف شک کی بنیاد پر گرفتار کیا گیا، پولیس نے اسے تھانے لا کر اس کی ویڈیوز بنائیں اور انہیں وائرل کیا، اس کے مطابق ثناء یوسف کے اہل خانہ پر بھی دباؤ ڈالا گیا کہ اسے بطور ملزم شناخت کریں ۔
عمر حیات نے اپنے مبینہ اعترافی بیان کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اسے اس بارے میں علم ہی نہیں اور نہ ہی اس نے کبھی قتل کا اعتراف کیا ۔


