ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ ایران کے مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں ، ایران وطن کے دفاع کے لیے لڑنے کے لیے تیار ہے ، لیکن سفارت کاری کے تحفظ اور فروغ کے لیے بھی آمادہ ہے ۔
نئی دلی میں برکس وزرائے خارجہ اجلاس میں ایرانی وزیر خارجہ نے برکس ممالک اور عالمی برادری سے امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف غیر قانونی جارحیت کی کھل کر مذمت کرنے کا مطالبہ کیا۔
ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ کہا ایران کے نقطۂ نظر سے آبنائے ہرمز تمام تجارتی جہازوں کے لیے کھلی ہے ، جہازوں کو ایرانی بحری افواج کے ساتھ تعاون کرنا ہوگا، ایرانی قوم امن پسند ہے ، جنگ نہیں چاہتی ۔
ایرانی وزیرِ خارجہ نے کہا ہے کہ جنگ کا آغاز نہیں کیا اپنا دفاع کیا، ہم جنگ بندی برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
عباس عراقچی نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں رکاوٹوں کا ذمے دار ایران نہیں، ایران کے خلاف جنگ میں ملوث ممالک کے علاوہ آبنائے ہرمز سب کے لیے کھلا ہے۔
عباس عراقچی نے کہا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے ہمیں اعتماد میں لینا ہوگا، ایران کبھی ایٹمی ہتھیار نہیں بنانا چاہتا، ہمارا ایٹمی پروگرام پُرامن مقاصد کے لیے ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے مسئلے کا حل بات چیت کے سوا کچھ اور نہیں ہے، ایران مذاکرات چاہتا ہے لیکن امریکا پر بھروسہ نہیں ہے۔


