پاکستان اس وقت شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے۔ مہنگائی کی بلند شرح، بڑھتا ہوا مالی خسارہ، اور بیرونی قرضوں کا بوجھ عوام کی زندگی کو مشکل بنا رہا ہے۔ ایسے میں ایک بنیادی سوال شدت سے ابھرتا ہے: کیا ریاستی وسائل کی تقسیم منصفانہ ہے، یا یہ ایک مخصوص طبقے تک محدود ہو چکی ہے؟
حالیہ برسوں میں سامنے آنے والی رپورٹس، بالخصوص اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (UNDP) کی تحقیق، اس حقیقت کو بے نقاب کرتی ہیں کہ پاکستان میں اشرافیہ کو سالانہ تقریباً 17.4 ارب ڈالر (تقریباً 4,000 سے 4,500 ارب روپے) کی مراعات دی جاتی ہیں۔ یہ رقم قومی معیشت کے حجم کا لگ بھگ 6 فیصد بنتی ہے—جو کسی بھی ترقی پذیر ملک کے لیے ایک غیر معمولی بوجھ ہے۔
اشرافیہ سے مراد وہ بااثر طبقات ہیں جو نہ صرف وسائل بلکہ پالیسی سازی پر بھی اثرانداز ہوتے ہیں۔ ان میں کارپوریٹ سیکٹر، بڑے زمیندار، اعلیٰ بیوروکریسی اور دیگر طاقتور ادارے شامل ہیں۔ کارپوریٹ شعبہ اکیلا ہی سالانہ تقریباً 4.7 ارب ڈالر کی مراعات حاصل کرتا ہے، جن میں ٹیکس چھوٹ، سستی توانائی اور مختلف سبسڈیز شامل ہیں۔ دوسری جانب زرعی شعبے میں بڑے زمیندار، جو آبادی کا محض ایک معمولی حصہ ہیں، وسیع زرعی زمینوں کے مالک ہونے کے باوجود مؤثر ٹیکس نیٹ سے باہر ہیں۔
بیوروکریسی اور دیگر ریاستی اداروں کو حاصل مراعات بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ سرکاری رہائش، گاڑیاں، مفت ایندھن اور دیگر سہولیات ایک ایسا نظام تشکیل دیتی ہیں جہاں مراعات تنخواہوں سے کئی گنا بڑھ جاتی ہیں۔ یہ تمام سہولیات بالآخر قومی خزانے پر بوجھ بنتی ہیں، جس کا ازالہ ٹیکسز اور مہنگائی کی صورت میں عام شہری سے لیا جاتا ہے۔
وسائل کی اس غیر مساوی تقسیم کی ایک واضح مثال یہ ہے کہ جہاں غریب طبقے کے لیے سبسڈی کا حجم چند درجن ارب روپے تک محدود ہے، وہیں اشرافیہ کو ہزاروں ارب روپے کی مراعات حاصل ہیں۔ یہ تفاوت نہ صرف معاشی عدم توازن کو بڑھاتا ہے بلکہ سماجی ناانصافی کو بھی جنم دیتا ہے۔
معاشی ماہرین کے مطابق، ان مراعات کے نتیجے میں مالی خسارہ بڑھتا ہے، ٹیکس کا بوجھ متوسط اور نچلے طبقے پر منتقل ہوتا ہے، اور معیشت میں مسابقتی ماحول متاثر ہوتا ہے۔ مزید برآں، یہ نظام سرمایہ کاری کے قدرتی بہاؤ کو بھی بگاڑتا ہے، کیونکہ مراعات یافتہ شعبے غیر معمولی فوائد حاصل کر لیتے ہیں جبکہ دیگر شعبے پیچھے رہ جاتے ہیں۔
سوال یہ نہیں کہ مراعات ہونی چاہئیں یا نہیں—بلکہ یہ ہے کہ کیا یہ مراعات منصفانہ، شفاف اور قومی مفاد کے مطابق ہیں؟ دنیا کے کئی ممالک میں مخصوص شعبوں کو وقتی مراعات دی جاتی ہیں تاکہ معاشی سرگرمی کو فروغ دیا جا سکے، مگر پاکستان میں یہ مراعات ایک مستقل ڈھانچے کی شکل اختیار کر چکی ہیں، جن کا خاتمہ یا اصلاح ایک مشکل مگر ناگزیر عمل بن چکا ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت سنجیدہ بنیادوں پر ٹیکس اصلاحات متعارف کروائے، غیر ضروری سبسڈیز کا خاتمہ کرے، اور مراعات کو ایک شفاف اور منصفانہ نظام کے تحت لائے۔ جب تک ریاستی وسائل کی منصفانہ تقسیم کو یقینی نہیں بنایا جاتا، اس وقت تک معاشی استحکام ایک خواب ہی رہے گا۔
آخرکار، ریاست کو یہ طے کرنا ہوگا کہ آیا وہ محدود طبقے کے مفادات کا تحفظ جاری رکھے گی، یا پورے معاشرے کی فلاح کو ترجیح دے گی۔ کیونکہ مضبوط معیشت کی بنیاد صرف ترقیاتی منصوبے نہیں، بلکہ انصاف پر مبنی نظام ہوتا ہے۔
Previous Articleسوشل جنکشن "سر ہزارہ” ناظرین کی دلچسپی کا مرکز بن گیا
Next Article جنگ ایران سے، قیمت خلیج سے: ڈاکٹر حمیرا عنبرین


