وزیراعلیٰ کے پی محمد سہیل آفریدی کی زیر صدارت گزشتہ شب پختونخوا ہاؤس میں ہزارہ ڈویژن سے تعلق رکھنے والے پارلیمنٹیرینز کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں آئندہ سالانہ ترقیاتی پروگرام کے حوالے سے تفصیلی مشاورت کی گئی۔
اجلاس میں وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے زیر انتظام ہری پور تا مانسہرہ جی ٹی روڈ کو دو رویہ کیا جائے۔ وزیراعلیٰ نے اعلان کیا کہ سڑک کی توسیع کیلئے صوبائی حکومت مالی معاونت بھی فراہم کرے گی تاکہ عوام کو بہتر سفری سہولیات میسر آ سکیں۔
وزیراعلیٰ نے ہزارہ ڈویژن کیلئے 200 ارب روپے کا خصوصی جامع ترقیاتی پیکج تشکیل دینے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ اس میں سے 50 ارب روپے سیاحت کے فروغ کیلئے مختص کیے جائیں گے۔ پارلیمنٹیرینز کو ہدایت کی گئی کہ خصوصی ترقیاتی منصوبوں کی تجاویز کیلئے علیحدہ مشاورتی نشستیں منعقد کی جائیں۔
اجلاس میں الائی کو ضلع بنانے کا نوٹیفکیشن جاری کرنے کا اعلان بھی کیا گیا۔ وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ آئندہ مالی سال کا ترقیاتی پروگرام ماضی سے مختلف ہوگا، جس میں بڑے اور عوامی اہمیت کے حامل منصوبوں کو شامل کیا جائے گا جبکہ جاری سکیموں کی بروقت تکمیل کو اولین ترجیح دی جائے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ آئی ڈی پی منصوبوں کو حتمی شکل دینے سے قبل پی سی ونز تیار کیے جائیں گے اور پسماندہ اضلاع پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ اجلاس میں سپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی اور ہزارہ ڈویژن سے منتخب اراکین قومی و صوبائی اسمبلی نے بھی شرکت کی۔


