سعودی عرب میں شمالی شہر عرار کے قریب ایک غار سے سات ممی شدہ چیتوں کی دریافت نے سائنس دانوں کو بے حد پرجوش کر دیا ہے۔ نیشنل سینٹر فار وائلڈ لائف (NCW) کے محققین نے 2022 اور 2023 کے دوران لاوگا غار نیٹ ورک میں یہ نایاب دریافت کی، جہاں مزید 54 چیتوں کی ہڈیوں کی باقیات بھی ملی ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ دریافت جزیرہ نما عرب میں چیتوں کی دوبارہ آبادکاری کی امید پیدا کرتی ہے۔
تحقیق کے مطابق چیتے تقریباً 15 لاکھ سال قبل وجود میں آئے تھے، مگر آج دنیا بھر میں یہ اپنی تاریخی حدود کے صرف 9 فیصد علاقے تک محدود ہو چکے ہیں۔ ایشیائی چیتا، جو کبھی جزیرہ نما عرب میں پایا جاتا تھا، 1970 کی دہائی میں مقامی طور پر معدوم ہو گیا تھا۔ محققین کا خیال ہے کہ اس کی وجہ رہائش گاہوں کی تباہی، شکار کی کمی، انسانی تصادم اور غیر قانونی شکار تھا۔
غار سے ملنے والے ممی شدہ چیتوں کی ریڈیو کاربن ڈیٹنگ سے معلوم ہوا کہ یہ 4,240 سے 150 سال پرانے ہیں۔ ڈی این اے تجزیے سے پتا چلا کہ ان میں سے ایک چیتا ایشیائی نسل سے قریب تر تھا، جبکہ دیگر شمال مغربی افریقی چیتے سے مماثلت رکھتے تھے۔
ماہرین کے مطابق اس سے یہ امکان پیدا ہوتا ہے کہ مختلف ذیلی نسلوں کی مدد سے جزیرہ نما عرب میں چیتوں کی دوبارہ آبادکاری ممکن ہو سکتی ہے، جس سے نایاب جنگلی حیات کے تحفظ کی نئی راہیں کھل سکتی ہیں۔


