امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کے خلاف سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ یا تو معاہدہ ہوگا یا پھر اسے مکمل طور پر ختم کر دیا جائے گا۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکی کارروائیوں میں ایران کی بحریہ اور ریڈار سسٹمز کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا ہے۔
ایک نیوز ایجنسی کو دیے گئے انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ نے اپنی تاریخ کی سخت ترین بحری ناکہ بندی نافذ کی تھی، جس کے باعث دو ماہ تک کوئی بھی جہاز اس ناکہ بندی سے نہیں گزر سکا۔ تاہم، مذاکرات اور ممکنہ معاہدے کے پیش نظر اس ناکہ بندی میں نرمی کی گئی۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ ہر صورت کامیاب ہوگا، یا تو ایران کے ساتھ معاہدہ ہوگا یا پھر فیصلہ کن کارروائی کے ذریعے مسئلہ حل کیا جائے گا۔ ٹرمپ نے کہا کہ اگرچہ ایران کے خلاف کارروائی مشکل نہیں، لیکن امریکہ اب بھی معاہدے کو ترجیح دیتا ہے۔
دوسری جانب ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے ٹرمپ کے بیانات پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر اپنی دھمکیاں بند کریں، ورنہ ایران بھی انہیں "دوسری زبان” میں جواب دینا جانتا ہے۔
باقر قالیباف نے ٹرمپ کو ایک وہمی شخص قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس سے پہلے بھی ایران کی ہزاروں سال پرانی تہذیب کو ختم کرنے کی دھمکیاں دے چکے ہیں، لیکن اس کا نتیجہ امریکہ کی ناکامی، مایوسی اور بالآخر مذاکرات کی درخواست کی صورت میں سامنے آیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ٹرمپ نے دھمکی آمیز بیانات کا سلسلہ بند نہ کیا تو ایران بھرپور انداز میں جواب دے گا۔


