وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان ہوئی مفاہمتی یادداشت میں بیلسٹک میزائلوں کا کوئی ذکر نہیں یہ نہیں ہوسکتا کہ کچھ ممالک کے پاس بیلسٹک میزائل ہوں اور ایران کے پاس نہ ہوں، ایران اپنے دفاع کے لیے بیلسٹک میزائل کیوں نہیں رکھ سکتا؟
اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف اور ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے پاک ایران تعلقات، خطے میں امن اور باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا ۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے خطاب کا آغاز فارسی میں اظہارِ خیال اور ایک شعر سے کیا، جس پر ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور وفد نے مسکراتے ہوئے تالیاں بجا کر بھرپور پذیرائی کی ۔
وزیراعظم نے کہا کہ "دوست وہی ہوتا ہے جو مشکل وقت میں ہاتھ تھامے”، اور ایران کے ساتھ پاکستان کی گہری دوستی کا اعادہ کیا ۔
وزیراعظم نے ایرانی صدر کے دورۂ پاکستان کو باعثِ مسرت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر مسعود پزشکیان ایک عظیم ملک کے عظیم رہنما ہیں اور بطور ڈاکٹر انسانیت کے لیے ان کی خدمات قابلِ تحسین ہیں، پاکستان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر بطور ثالث دستخط کیے اور امن معاہدے کے لیے مخلصانہ سفارتی کوششیں کیں ۔
شہباز شریف نے مزید کہا کہ بیلسٹک میزائل کے معاملے پر دہرا معیار نہیں ہونا چاہیے یہ نہیں ہوسکتا کہ کچھ ممالک کے پاس بیلسٹک میزائل ہوں اور ایران کے پاس نہ ہوں، ایران اپنے دفاع کے لیے بیلسٹک میزائل کیوں نہیں رکھ سکتا؟ یہ ایسی منافقت ہے جسے آپ ہضم نہیں کرسکتے، اس لیے میں واضح کردوں کہ ایم او یو پر بطور ثالث میرے دستخط موجود ہیں اس میں میزائل کو کوئی ذکر نہیں اور اس بارے میں کوئی ابہام بھی نہیں ہونا چاہیے ۔
شہباز شریف نے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی دوراندیش قیادت کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ کے خاتمے پر خوشی ہے، تاہم جنگ کے دوران ہزاروں قیمتی جانوں کے ضیاع پر افسوس بھی ہے ۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ایران ہزاروں سالہ تہذیبی رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں، ایران کی کامیابی کو اپنی کامیابی اور اس کے نقصان کو اپنا نقصان سمجھتے ہیں، جبکہ شرپسند عناصر امن معاہدے کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں، وزیراعظم نے پاکستان اور ایران کی دوستی کو ہمیشہ زندہ رہنے کی دعا بھی دی ۔
ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے شاندار میزبانی پر وزیراعظم شہباز شریف کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اپنی تقریر کا آغاز مفکرِ پاکستان علامہ اقبالؒ کے شعر سے کیا ۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان صرف ایران کا ہمسایہ نہیں بلکہ بھائی اور قریبی دوست بھی ہے، جبکہ دونوں ممالک "یک جان، دو قالب” ہیں ۔
ایرانی صدر نے کہا کہ اسلام آباد اور تہران کے درمیان تعلقات باہمی اعتماد، احترام اور مشترکہ مستقبل پر مبنی ہیں، حالیہ واقعات نے دونوں ممالک کے تعلقات کو نئی جہت دی ہے جبکہ مذاکراتی عمل میں پاکستان نے بہترین کردار ادا کیا اور امن، ترقی اور خوشحالی کے لیے اس کی کوششیں قابلِ ستائش ہیں ۔
ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے کہا کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط پاکستان پر اعتماد کی بدولت ممکن ہوئے، انہوں نے صدرِ مملکت، وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں کو انتہائی تعمیری قرار دیا اور دورۂ پاکستان کی دعوت پر وزیراعظم کا شکریہ بھی ادا کیا ۔


