آزاد جموں و کشمیر حکومت کے ترجمان نے کہا ہے کہ کالعدم ایکشن کمیٹی کے 14 اور 15 جولائی کو احتجاج کیلئے طلبہ و طالبات سے شرکت کی اپیل کی گئی ہے، اس موقع پر کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی تمام تر ذمہ داری کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی پر عائد ہوگی ۔
مظفرآباد میں پولیس ترجمان کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ترجمان آزاد جموں و کشمیر نے کہا کہ حکومتِ آزاد کشمیر اور حکومتِ پاکستان نے ہمیشہ مذاکرات، مفاہمت اور عوامی مسائل کے حل کو ترجیح دی ۔
انہوں نے کہا کہ 4 اکتوبر 2025ء کے معاہدے کے تحت کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے 38 مطالبات وسیع تر عوامی مفاد میں منظور کیے گئے، کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی بنیادی حقوق کے مطالبات سے ہٹ کر ریاست مخالف مقاصد کی جانب مائل ہوئی، ریاست مخالف سرگرمیوں کے باعث عوامی ایکشن کمیٹی کو قانون کے مطابق کالعدم قرار دیا گیا ۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ گزشتہ 36 روز سے جاری دھرنے کے باعث پونچھ ڈویژن میں خوراک، ادویات اور ضروری اشیاء کی ترسیل شدید متاثر ہوئی، شاہراہوں اور رابطہ سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کر کے عام شہریوں کی آمدورفت مکمل طور پر معطل کی گئی، کئی علاقوں میں غذائی قلت اور اشیائے ضروریہ کی کمی کی صورتحال پیدا ہوگئی ۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت کی آئینی اور اخلاقی ذمہ داری ہے کہ عوام کے لیے بند راستے کھلوائے، بند شاہراہیں کھلوانے کی ہر کوشش کے دوران کالعدم کمیٹی کی جانب سے مزاحمت اور فائرنگ کا سامنا کرنا پڑا ۔
ان کا کہنا تھا کہ شجاع آباد میں راستہ بحال کرنے والی ٹیم پر ملحقہ علاقوں اور جنگلات سے شدید فائرنگ سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار زخمی ہوئے، اشیائے خوردونوش لے جانے والے ٹرکوں پر حملے، لوٹ مار اور ڈیزل نکالنے کے واقعات کسی پرامن احتجاج کی عکاسی نہیں کرتے ۔


