ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز میں دو جہازوں کو اپنی تحویل میں لے لیا ہے۔ پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے جاری بیان کے مطابق یہ جہاز خفیہ طور پر آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کر رہے تھے، جس کے بعد کارروائی کرتے ہوئے انہیں قبضے میں لے لیا گیا۔
پاسدارانِ انقلاب نے اس واقعے کی ویڈیو بھی جاری کی ہے جس میں جہازوں کو اپنی تحویل میں لیتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ایران اپنی سمندری حدود کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گا۔
دوسری جانب آبنائے ہرمز کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے امریکی سینٹکام میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس کے دوران حکام کو بریفنگ دی گئی کہ اگر ایران کی جانب سے نصب کیے گئے بارودی سرنگوں کو ہٹانے کی ضرورت پیش آئی تو اس عمل میں تقریباً چھ ماہ لگ سکتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق آبنائے ہرمز میں بڑھتی ہوئی کشیدگی عالمی سطح پر تیل کی ترسیل اور خطے کے امن کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔


