پاکستان میں تعینات سویڈن کی سفیر محترمہ الیگزینڈرا برگ وان لِنڈے نے وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر مصدق ملک سے اسلام آباد میں ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران دونوں جانب سے عالمی صورتحال اور اس کے ممکنہ اثرات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
سویڈن کی سفیر نے ڈاکٹر مصدق ملک کو آرکٹک سرکل اسمبلی میں شرکت کی دعوت ملنے پر مبارکباد دی اور کہا کہ یہ اس بات کا مظہر ہے کہ عالمی برادری اس حقیقت سے آگاہ ہو رہی ہے کہ موسمیاتی مسائل سرحدوں تک محدود نہیں بلکہ عالمی سطح پر مشترکہ اقدامات کے متقاضی ہیں۔
اس موقع پر وفاقی وزیر نے اس امر پر زور دیا کہ وہ ممالک جو گلیشیئرز کے پگھلنے سے براہِ راست متاثر ہو رہے ہیں، جیسے آرکٹک خطے کے ممالک اور ہمالیائی سلسلے سے وابستہ ممالک بشمول پاکستان، ان کے درمیان قریبی تعاون نہایت ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس طرح کے تعاون سے تحقیق اور مشترکہ پالیسی اقدامات کو فروغ دیا جا سکتا ہے تاکہ موسمیاتی تبدیلی اور گلیشیئرز کے پگھلاؤ سے پیدا ہونے والے چیلنجز کا مؤثر انداز میں مقابلہ کیا جا سکے۔
سفیر نے موسمیاتی اقدامات کے حوالے سے سویڈن کے نقطۂ نظر پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ سویڈن موسمیاتی مسائل کو صرف ترقیاتی تناظر میں نہیں بلکہ نجی شعبے کی فعال شمولیت کے ساتھ بھی دیکھتا ہے۔ اس ضمن میں انہوں نے وفاقی وزیر کو آگاہ کیا کہ سویڈن کا مالیاتی ادارہ اسکینڈینیوسکا اینسکیلڈا بینکن (SEB)، جو پہلے ہی گرین قرضوں کے شعبے میں کام کر رہا ہے، پاکستان میں پانی، بنیادی ڈھانچے اور توانائی کے منصوبوں کے لیے ایک کثیرملکی فنڈ قائم کرنے کے امکان کا جائزہ لے رہا ہے۔


