اسلام آباد: وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا ہے کہ کوانٹم ویلی کا قیام ملک کے مستقبل کی نئی سمت کا آغاز ہے.
کوانٹم ویلی کا مقصد نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی اور عالمی جدت کے مراکز سے جوڑنا ہے۔
کوانٹم ویلی پاکستان کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اکیسویں صدی میں ترقی کا انحصار جسمانی قوت کے بجائے ذہنی اور تخلیقی صلاحیتوں پر ہے۔
جس ملک کے پاس بہترین آئیڈیاز اور انہیں مصنوعات میں تبدیل کرنے کی صلاحیت ہوگی، وہی دنیا میں آگے بڑھے گا۔
احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان کی تقریباً ساٹھ فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے اور ہماری نوجوان نسل کسی بھی قوم سے کم نہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ نوجوانوں کی صلاحیتوں کو یکجا کرکے ’’ٹیم پاکستان‘‘ کے جذبے کے ساتھ آگے بڑھا جائے۔
انہوں نے کہا کہ دفاعی اور سفارتی کامیابیوں کے لیے مضبوط معیشت ناگزیر ہے۔
پاکستان کا ہدف دو ہزار پینتیس تک ایک ٹریلین ڈالر اور دو ہزار سینتالیس تک تین ٹریلین ڈالر کی معیشت بننا ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ برآمدات میں اضافہ کیے بغیر مکمل معاشی خودمختاری حاصل نہیں کی جاسکتی۔
ٹیکنالوجی کے مراکز کے ذریعے پاکستان کی ٹیکنالوجی برآمدات کو دو ہزار پینتیس تک سو ارب ڈالر تک لے جانے میں مدد ملے گی۔
احسن اقبال نے بتایا کہ مصنوعی ذہانت، سائبر سیکیورٹی، بگ ڈیٹا، جی آئی ایس اور سیٹلائٹ ٹیکنالوجی کے مراکز کے ذریعے متعدد جامعات کو قومی ٹیکنالوجی نیٹ ورک سے منسلک کیا گیا ہے.
’’اڑان پاکستان‘‘ کے تحت ٹیکنالوجی کے سفر کو مزید تیز کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے نوجوان علم، جدت اور ٹیکنالوجی کے ذریعے ملک کے لیے قیمتی زرمبادلہ کما سکتے ہیں۔
حکومت نوجوانوں کو صرف روزگار کے متلاشی نہیں بلکہ علم، جدت اور قومی ترقی کے معمار بنانا چاہتی ہے۔


