لاہور: حکومتِ پنجاب نے فضائی آلودگی کے بعد صوبے کے دریاؤں، نہروں اور قدرتی آبی ذخائر کو آلودگی سے بچانے کے لیے اقدامات شروع کر دیے ہیں۔
صوبے کے مختلف دریاؤں، بیراجوں پر پانی کے معیار کی نگرانی کے لیے 15 خودکار مانیٹرنگ سٹیشنز قائم کیے گئے ہیں۔
ان سٹیشنز کے ذریعے ہر گھنٹے بعد پانی کے 14 مختلف معیارات کا تجزیہ کیا جا رہا ہے۔
اس نظام کے ذریعے پانی کے معیار کی مسلسل نگرانی کے ساتھ واٹر کوالٹی انڈیکس جاری کرنے کی تیاری بھی کی جا رہی ہے۔
محکمہ تحفظ ماحولیات پنجاب کے تحت قائم ماحولیاتی مانیٹرنگ سینٹر کے انچارج نور احمد کے مطابق پانی کے معیار سے متعلق انڈیکس بھی باقاعدگی سے جاری کیا جائے گا۔
اس اقدام سے دریاؤں میں آلودگی کی سطح اور اس کے اسباب کا سائنسی بنیادوں پر جائزہ لینے میں مدد ملے گی۔
انہوں نے بتایا کہ دریائے راوی پر راوی سائفن اور ہڈیارہ ڈرین کے سنگم کے قریب مانیٹرنگ اسٹیشن قائم کیے گئے ہیں۔
دریائے چناب پر ہیڈ مرالہ، خانکی اور ہیڈ تریموں اور دریائے سندھ پر کالا باغ سمیت مختلف مقامات پر پانی کے معیار کی نگرانی کی جا رہی ہے۔
دریاؤں کے مختلف مقامات پر نصب سٹیشنز سے حاصل ہونے والے اعداد و شمار کی مدد سے آلودگی کی سطح میں ہونے والی تبدیلیوں کا جائزہ لیا جائے گا۔
ہڈیارہ ڈرین میں آلودگی کے ذرائع کا تعین کرنے کے لیے بھی سائنسی تحقیق جاری ہے۔
اس مقصد کے لیے ڈرین کے 56 مقامات سے پانی کے نمونے حاصل کیے گئے ہیں، جن کے درمیان تقریباً ایک کلومیٹر کا فاصلہ رکھا گیا ہے۔
چاروں موسموں کے دوران نمونوں کا تجزیہ کرنے کے بعد یہ تعین کیا جائے گا کہ آلودگی کا کتنا حصہ مقامی صنعتوں اور شہری اخراج سے متعلق ہے اور کتنا آلودہ پانی سرحد پار سے آ رہا ہے۔


