پشاور: پاکستان تحریک انصاف کے صوبائی سیکرٹری اطلاعات شوکت یوسف زئی نے کہا ہے کہ آئندہ وفاقی بجٹ محصولات بڑھانے کے اہداف پر مبنی ہوگا اور آئی ایم ایف کے دباؤ کے باعث بجلی و گیس پر سبسڈی میں کمی جبکہ پیٹرولیم مصنوعات پر مزید لیوی عائد کیے جانے کا امکان ہے، جس سے ملک میں مہنگائی کی نئی لہر جنم لے گی۔
اپنے ویڈیو پیغام میں شوکت یوسف زئی نے کہا کہ حکومت ٹیکس محصولات کے اہداف حاصل کرنے میں ناکام ہو چکی ہے، جس کے باعث پیٹرولیم لیوی میں اضافہ کرکے عوام پر مزید مالی بوجھ ڈالا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صرف قرضوں پر سود کی ادائیگی کے لیے 7 ہزار ارب روپے سے زائد مختص کیے جا رہے ہیں، اس لیے یہ بجٹ عوام کے لیے انتہائی سخت اور خوفناک ثابت ہوگا۔
انہوں نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ خیبرپختونخوا کے بقایاجات فوری طور پر ادا کیے جائیں، کیونکہ وفاق صوبے کا 4 ہزار ارب روپے سے زائد کا مقروض ہو چکا ہے۔ ان کے مطابق ان رقوم میں نیٹ ہائیڈل پرافٹ، ضم اضلاع کے لیے این ایف سی شیئر، اے آئی پی فنڈز اور ضم اضلاع کے کرنٹ بجٹ میں شارٹ فال شامل ہیں۔
شوکت یوسف زئی نے دعویٰ کیا کہ ملکی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے اور رواں مالی سال کے پہلے 11 ماہ کے دوران تجارتی خسارہ 38 ارب ڈالر تک جا پہنچا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تقریباً 150 ٹیکسٹائل کارخانے بند ہو چکے ہیں جبکہ بڑی ملٹی نیشنل کمپنیاں اور مقامی سرمایہ کار ملک چھوڑ رہے ہیں، جس سے برآمدات بھی متاثر ہو رہی ہیں۔


