اسلام آباد: پاکستان میں معاشی بہتری کے لیے کیے گئے اقدامات کے نتیجے میں عالمی مالیاتی اداروں اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہونا شروع ہو گیا ہے۔
مختلف بین الاقوامی اداروں نے معاشی استحکام، مالی نظم و ضبط اور اصلاحاتی اقدامات کو مثبت قرار دیتے ہوئے پاکستان کی اقتصادی سمت پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔
آئی ایم ایف کے مطابق بہتر معاشی پالیسیوں نے معیشت کو مستحکم بنانے اور اعتماد کی بحالی میں اہم کردار ادا کیا ہے.
موڈیز نے معاشی بہتری، طویل مدتی ترقی کے امکانات اور سرمایہ کاروں کے بڑھتے ہوئے اعتماد کو مثبت پیش رفت قرار دیا ہے۔
فچ ریٹنگز اور ایس اینڈ پی گلوبل نے بھی پاکستان کے مالی نظام میں بہتری، آمدنی میں اضافے اور مستقبل کے استحکام کی نشاندہی کی ہے۔
ایشیائی ترقیاتی بینک نے معاشی اصلاحات کو سراہتے ہوئے انہیں مثبت قدم قرار دیا۔
ڈن اینڈ بریڈ اسٹریٹ کے سروے کے مطابق صارفین کا اعتماد 2022 کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گیا.
او آئی سی سی آئی کے 73 فیصد ارکان نے پاکستان کو سرمایہ کاری کے لیے بہتر ملک قرار دیا۔
پرائس واٹر ہاؤس کوپرز کے سروے کے مطابق کاروباری رہنماؤں کا اعتماد 49 فیصد سے بڑھ کر 83 فیصد تک پہنچ گیا.
کاروباری اعتماد کی مجموعی شرح گزشتہ چھ ماہ میں دوگنا ہو کر 22 فیصد تک ریکارڈ کی گئی۔


