مردان میں پاک فضائیہ کا ایک تربیتی طیارہ حادثے کا شکار ہو گیا، جس کے نتیجے میں پاک فضائیہ کے فلائٹ لیفٹیننٹ محمد قاسم اور پاک بحریہ کے لیفٹیننٹ طحہ عباسی شہید ہوگئے۔ پاک فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق حادثہ معمول کی تربیتی پرواز کے دوران پیش آیا۔
آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ حادثے کے فوراً بعد ریسکیو اور امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور علاقے کو گھیرے میں لے کر ضروری کارروائی شروع کردی گئی۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق طیارہ گرنے کے باعث دونوں افسران موقع پر ہی شہید ہوگئے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے ایک انکوائری بورڈ تشکیل دے دیا گیا ہے جو تمام تکنیکی اور آپریشنل پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لے گا۔ انکوائری مکمل ہونے کے بعد حادثے کی اصل وجوہات سامنے لائی جائیں گی۔
صدر مملکت آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل عاصم منیر، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی اور مسلح افواج کے سربراہان نے حادثے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ اپنے تعزیتی پیغامات میں قومی قیادت نے شہید افسران کی پیشہ ورانہ خدمات اور وطن کے دفاع کے لیے ان کی قربانی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔
صدر زرداری نے شہداء کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ قوم اپنے بہادر سپوتوں کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھے گی۔ وزیراعظم شہباز شریف نے بھی شہداء کی بلندی درجات اور لواحقین کے لیے صبر جمیل کی دعا کرتے ہوئے کہا کہ وطن کی سلامتی کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے قوم کا فخر ہیں۔


