اسلام آباد: وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے پاکستان مائیکروفنانس نیٹ ورک کی 10ویں سالانہ مائیکروفنانس کانفرنس سے ورچوئل خطاب کیا۔
وزیر خزانہ نے کہا ہے کہ معاشی استحکام، پائیدار ترقی، ساختی اصلاحات، تجارت و سرمایہ کاری، نئی معیشت اور مالی سہولیات تک رسائی حکومت کی چھ اہم ترجیحات ہیں۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ گزشتہ ڈھائی برس میں پاکستان نے معاشی استحکام کے حصول میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔
پاکستان کے دوہرے خسارے جی ڈی پی کے تقریباً 12.5 فیصد سے کم ہو کر گزشتہ مالی سال کے اختتام پر 2.6 فیصد رہ گئے۔
زرمبادلہ کے ذخائر 21.4 ارب ڈالر کی تاریخی بلند سطح پر پہنچ گئے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی معیشت تین سال قبل سکڑاؤ کا شکار تھی۔
گزشتہ مالی سال میں 3.7 فیصد بڑھی اور رواں مالی سال میں 4 فیصد سے زائد ترقی متوقع ہے۔
ٹیکس، توانائی، سرکاری اداروں، نجکاری اور عوامی مالیات میں ساختی اصلاحات حکومت کی ترجیحات میں شامل ہیں۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت اقتصادی سرگرمیوں میں نجی شعبے کا کردار بڑھانے کیلئے پرعزم ہے۔
پاکستان امداد سے تجارت اور سرمایہ کاری کی جانب منتقل ہو رہا ہے اور مضبوط تجارتی و سرمایہ کاری تعلقات مزید اہم ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت، بلاک چین اور ویب تھری سمیت نئی معیشت کیلئے پاکستان کو بہتر طور پر تیار ہونا ہوگا۔
پاکستانی فری لانسرز نے گزشتہ مالی سال آئی ٹی خدمات کی برآمدات سے 1.6 ارب ڈالر کمائے۔
وزیر خزانہ نے مالی سہولیات تک رسائی بڑھانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایس ایم ایز، زراعت اور سستی رہائش کیلئے مالی معاونت بڑھانے کیلئے کمرشل بینکوں اور مائیکروفنانس شعبے کے درمیان مضبوط تعاون ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ مائیکروفنانس اداروں کو ڈیجیٹل قرضوں کے نظام، صارفین کے تجربے اور مؤثر کریڈٹ اسکورنگ ماڈلز کو بہتر بنانا چاہیے۔
قرض دینے کے فیصلوں میں صرف ضمانت کے بجائے قرض واپس کرنے کی صلاحیت، موسمی عوامل اور استطاعت کو مدنظر رکھا جائے۔


