اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ریلوے اراضی پر مختلف کمرشل منصوبوں کے ذریعے بینکوں سے فنڈنگ حاصل کرکے مین لائن ون کی تعمیر کے لیے بروئے کار لانے کی منظوری دی۔
اسلام آباد میں جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم نے ہدایت کی کہ ریلوے کی واگزار کرائی گئی اراضی کمرشل بنیادوں پر بروئے کار لائی جائے۔
وزیراعظم نے کہا کہ مین لائن ون کی تعمیر کیلئے بینکوں سے فنڈنگ کے حصول سے متعلق جامع لائحہ عمل دو ہفتے میں پیش کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ ریلوے کو مضبوط اور معاشی طور پر خود کفیل بنانے کے لیے کارپوریٹ طرز پر اصلاحات حکومتی ترجیحات میں شامل ہیں۔
ادارے کو منافع بخش بنانے اورآپریشنز بہتر کرنے کے لیے وزیرِ ریلوے بھرپور محنت کر رہے ہیں۔
محمدشہبازشریف نے کہا کہ ریلوے کی ترقی، مسافروں کو بہتر سفری سہولتوں کی فراہمی اور مال برداری میں اضافے کے لیے مین لائن ون منصوبہ اہمیت کا حامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ ریلوے کی املاک میں موجود حقیقی تجارتی صلاحیت بروئے کار لانے کی ضرورت ہے۔
ادارے کی قیمتی اراضی کمرشل مقاصد کے لیے مؤثر انداز میں استعمال کرکے ملکی معیشت اور ریلوے کی ترقی میں کردار ادا کیا جائے۔
وزیراعظم نے کہا کہ ریلوے کی اربوں روپے مالیت اراضی بروئے کار لاتے ہوئے کمرشل بنیادوں پر ایم ایل ون کی تعمیر عمل میں لائی جائے۔
انہوں نے ریلوے کی قبضہ شدہ زمینوں کی نشاندہی اور واگزاری کے حوالے سے چیئرمین نیب کی سربراہی میں قومی احتساب بیورو ور وزارتِ ریلوے کی ٹیموں کی کاوشوں کو سراہا۔


