اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت ہاؤسنگ، چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروبار اور زرعی شعبے کو قرض فراہمی کا جائزہ اجلاس ہوا۔
اجلاس میں ہاؤسنگ، زرعی شعبے اور چھوٹے، درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کو قرضوں کے اعداد و شمار پیش کیے گئے۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا کہ ہاؤسنگ، زراعت اور ایس ایم ای شعبوں کو مالی وسائل کی فراہمی میں حائل رکاوٹیں دور کی جائیں۔
انہوں نے کہا کہ ہاؤسنگ، زراعت اور ایس ایم ای شعبوں کو قرضوں کے نظام کو مزید مؤثر بنایا جائے۔
وزیراعظم نے کہا کہ کاروباری اداروں کو قرض فراہمی کے لیے ایس ایم ای پورٹل نومبر کے اختتام تک فعال کیا جائے۔
ان کے مطابق بذریعہ ایس ایم ای پورٹل قرض فراہمی اور ایل سیز و دیگر کاروباری سہولیات کی براہ راست نگرانی ممکن ہوگی۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا کہ سمیڈا ایس ایم ایز کی استعداد کار بڑھانے اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔
انہوں نے کہا کہ ایس ایم ایز کو عالمی ویلیو چین سے منسلک کرنے کے لیے بھی اقدامات کیے جائیں۔
اجلاس میں قرضوں کے حوالے سے نیشنل بینک آف پاکستان اور فرسٹ ویمن بینک کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ نیشنل بینک کی ہاؤسنگ فنانس کے شعبے میں قرضوں کی منظوری کی شرح 76 فیصد ہونا قابل تحسین ہے۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا کہ نیشنل بینک کی کارکردگی بڑھانے کے لیے بہترین پروفیشنلز کی خدمات لی جائیں۔
انہوں نے ہدایت کی کہ مطلوبہ نتائج نہ دینے والے عملے کے خلاف محکمانہ کارروائی کی جائے۔
وزیراعظم نے کہا کہ آسان ہاؤسنگ فنانس کے لیے دیگر صوبے پنجاب کی طرز پر اراضی ریکارڈ کی ڈیجیٹائزیشن تیز کریں۔
ان کا کہنا ہے کہ اراضی ریکارڈ ڈیجیٹائزیشن سے ہاؤسنگ قرضوں کی فراہمی میں آسانی اور شفافیت آئے گی۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ وزیراعظم اپنا گھر سکیم کے تحت 426 ارب روپے مالیت کے 71 ہزار 690 قرضوں کی منظوری دی جا چکی ہے۔
بریفنگ کے مطابق وزیراعظم اپنا گھر سکیم کے تحت اب تک 13 ہزار 214 افراد کو 76 ارب روپے کے قرضے جاری کیے گئے ہیں۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ رواں سال 125,000 رہائشی یونٹس کے لیے 700 ارب روپے کے قرضوں کی فراہمی کا ہدف رکھا گیا ہے۔
بریفنگ کے مطابق زرعی شعبے کے لیے قرضوں کا مجموعی حجم 1,352 ارب روپے ہے جس سے 34 لاکھ 55 ہزار افراد مستفید ہوئے۔


