لاہور: وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نےلاہور میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیاسی اختلافات کو انتہاء تک نہیں لے جانا چاہئے۔
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں شہداء کے جنازوں میں صوبائی حکومت کا کوئی رکن شامل نہیں ہوا.
خیبرپختونخوا میں صوبائی حکومت کی بے حسی سب کے سامنے ہے اور خیبرپختونخوا میں سکیورٹی کی صورتحال پورا پاکستان دیکھ رہا ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ خیبرپختونخوا سے اسلام آباد پر دھاوا بولنے کے دعوے کیے جا رہے ہیں.
اسلام آباد پر جو بھی دھاوا بولنے کی کوشش کرے گا اسے سخت نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا.
اوچھے ہتھکنڈوں سے کبھی بھی ناجائز مطالبات پورے نہیں ہوتے۔
وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی قیادت میں اکثریت لانگ مارچ کی حامی نہیں.
اسلام آباد ہائیکورٹ کے احکامات بالکل واضح ہیں ان پر من و عن عملدرآمد ہوگا.
ایسے طرز عمل سے اپنا اور اپنے لوگوں کا نقصان مت کرائیں، اب بھی وقت ہے کہ بند گلی میں نہ جائیں اور بند گلی میں جانے کا نقصان ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ اس بار شہر بالکل بھی بند نہیں کرانے دیں گے.
اس بار مستقل لائحہ عمل بنائیں گے، لانگ مارچ کرنے والوں کو خود بھی نہیں معلوم ان کے مطالبات کیا ہیں، اب بڑھکیں مارنے سے کچھ نہیں ہوگا۔
اس بار کوشش کریں گے کہ ایسے ہتھکنڈوں کا ہمیشہ کے لیے سدباب کیا جائے اور ایسے مارچ اور دھرنوں کے بار بار متحمل نہیں ہو سکتے۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے ہسپتال میں چیک اپ کا مطالبہ پورا کر چکے ہیں۔
خطے کی صورتحال کے باعث پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔
ہماری سب سے بڑی کوشش ہے کہ پٹرول کی سپلائی بند نہ ہو، دنیا میں پٹرولیم مصنوعات کی قلت پیدا ہو رہی ہے۔
نائب وزیراعظم نے بھرپور کوشش کرکے آئل ٹینکرز کو کلیئر کرایا اور نئے انتظامی یونٹس عوام کی منشاء سے ہی بنیں گے۔


