کوہاٹ میں پرانی پولیس لائن کے قریب نماز جمعہ کے دوران خود کش دحملہ ہوا ہے جس کے نتیجے میں 5 پولیس اہلکاروں سمیت 16 افراد شہید ہوگئے جبکہ 50 کے قریب زخمی ہو گئے، زخمیوں کو ہسپتال منتقل کردیا گیا ۔
کوہاٹ: ریسکیو حکام خیبر پختونخوا کے مطابق پرانی پولیس لائن کے قریب دھماکے کے بعد ریسکیو کا سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن تاحال جاری ہے،سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن کے دوران اب تک 15 افراد شہید جبکہ 40 سے زائد زخمی ہوئے، زخمیوں کو موقع پر فوری طبی امداد فراہم کرنے کے بعد ریسکیو کی ایمبولینسز کے ذریعے ہسپتال منتقل کیا گیا ہے ۔
ایم ایس ڈی ایچ کیو ہسپتال طاہر علی شاہ کا کہنا ہے کہ 15لاشیں اور 50 سے زائد زخمیوں کو ہسپتال لائےگئے، ڈی ایچ کیو سمیت دیگر ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے ۔
پولیس کا کہنا ہے کہ کوہاٹ ہنگو روڈ کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دیاگیا ہے اور پولیس لائنز کے قریب مزید نفری پہنچ گئی ہے، دھماکے سے قریبی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا، دھماکے کی جگہ پر امدادی کارروائیاں جاری ہیں ۔
حکام نے کہا کہ پولیس لائنز کے احاطے میں پولیس اور سی ٹی ڈی کا فتنہ الخوارج سے مقابلہ جاری ہے، ابتدائی اطلاعات کے مطابق دھماکے کے بعد ایک خود کش حملہ آور نےسپیشل برانچ بلڈنگ کے قریب خود کو دھماکے سے اڑایا، اب تک ایک دہشتگرد سنائپر مقابلے میں جہنم واصل ہوچکا ہے، آپریشن تاحال جاری ہے ۔
کوہاٹ پولیس لائنز مسجد پر دھماکے کے بعد 7 مسلح دہشتگردوں نے پولیس لائنز میں دراندازی کی، پولیس اور سی ٹی ڈی نے دہشتگردوں کا بھرپور مقابلہ کیا، ابتدا میں دہشتگردوں کے اسنائپر کو جہنم واصل کر دیا گیا ۔
اب تک کی اطلاعات کے مطابق خود کش بمبار اور سنائپر سمیت 6 دہشتگرد جہنم واصل ہو چکے ہیں، دہشتگردوں کے خلاف کلیئرنس آپریشن آخری مراحل میں داخل ہو گیا ہے ۔
دوسری جانب انسپکٹر جنرل آف پولیس ذوالفقار حمید نے کہا کہ خیبرپختونخوا پولیس دہشتگردوں کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے ۔
صدر مملکت، وزیراعظم، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی مذمت: ۔
صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے حملہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ فتنہ الخوارج اور بیرونی پشت پناہی میں سرگرم دہشت گردوں کا مکمل خاتمہ قومی سلامتی کے لیے ناگزیر ہے ۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کوہاٹ کی پرانی پولیس لائن میں ہونے والے دھماکے کی شدید مذمت کی ہے اور زخمیوں کو فوری اور بہترین طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے ان کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی ۔
وزیراعظم شہبازشریف نے متعلقہ حکام سے دھماکے کی نوعیت اور وجوہات کے بارے میں رپورٹ طلب کرلی ۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کوہاٹ دھماکےکا نوٹس لیتے ہوئے پولیس حکام سے رپورٹ طلب کرلی اور کہا کہ واقعےکےتمام پہلوؤں کا جائزہ لےکر تفصیلی رپورٹ پیش کی جائے، دہشتگردی کی بزدلانہ کارروائیوں سے قوم کےحوصلے پست نہیں کیےجاسکتے ۔


