کراچی: گلستان جوہر میں رینجرز کی ٹرانسپورٹ کمپنی پر حملے اور دھماکے کے مقدمے میں پولیس نے کالعدم جماعت الاحرار کے کمانڈر عمر قاری سمیت 6 دہشتگردوں کو حملے کا ماسٹر مائنڈ قرار دے دیا۔
مقدمہ تھانہ سی ٹی ڈی میں رینجرز کے سب انسپکٹر اسد محمود خان کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے۔
مقدمے میں دہشت گردی، قتل، اقدام قتل، سرکاری املاک اور گاڑیوں کو نقصان پہنچانے، غیر قانونی اسلحہ و دھماکا خیز مواد کے استعمال، برآمدگی، دہشت گردانہ سازش اور دہشت گردی کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔
گرفتار دہشت گرد نے انکشاف کیا کہ اس کا تعلق جلال آباد افغانستان سے ہے اور وہ اپنے ساتھیوں جانان (افغان شہری)، عمر (افغان شہری) اور عبدالہادی (باجوڑ پاکستان کا شہری جو کہ عرصہ دراز سے افغانستان میں دہشت گرد تنظیم کا حصہ ہے) کے ہمراہ حملے سے ایک ہفتہ قبل کراچی آیا تھا جہاں انہوں نے مقامی سہولت کاروں کی مدد سے کورنگی میں عارضی رہائش گاہ پر قیام کیا اور اس دوران رینجرز ورکشاپ کی ریکی کی۔
چاروں دہشت گردوں کا تعلق افغانستان میں موجود کالعدم جماعت الاحرار سے ہے، کمانڈرز عمر قاری، مولوی احرار اور عبدالواجد کی طرف سے انھیں رینجرز اہلکاروں پر دہشتگردانہ حملہ کرنے کی غرض سے باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت پاکستان بھیجا گیا تھا۔
انھیں افغانستان میں موجود کالعدم جماعت الاحرار کے کمانڈرز ملا طاہر افغانی، ملا عبدالمنان اور عمر آفریدی نے اس حملے کے لیے باقاعدہ دہشتگردی کی تربیت دی، حملے کے حوالے سے درج دیگر چار مقدمات پولیس افسر کی مدعیت میں درج کیے گئے ہیں۔


