اسلام آباد میں امام بارگاہ کے اندر خود کش دھماکے کے نتیجے میں 31 افراد شہید اور 169 زخمی ہو گئے، زخمی ہونے والوں کا علاج مختلف ہسپتالوں میں جاری ہے ۔
پولیس کے مطابق دھماکہ اسلام آباد کے مضافاتی علاقے ترلائی کی امام بارگاہ خدیجتہ الکبریٰ میں جمعہ کی نماز کے دوران ہوا، دھماکے کی شدت اس قدر زیادہ تھی کہ اس کی آواز دور دور تک سنی گئی اور قریبی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے ۔
پولیس کے دھماکے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور ریسکیو اہلکاروں سمیت بم ڈسپوزل اسکواڈ کا عملہ بھی موقع پر پہنچ گیا، پولیس کا کہنا ہےکہ خودکش حملہ آور نے مسجد میں داخلے سے روکنے پر خود کو دھماکے سے اڑالیا جس کے نتیجے میں بھاری جانی نقصان ہوا ۔
ذرائع کے مطابق امام بارگاہ میں دھماک جمعے کی نماز میں دوسری رکعت کے دوران اس وقت ہوا جب نمازی سجدے میں تھے۔ حملہ آور نے پہلے فائرنگ کی جس کے بعد سکیورٹی پر مامور اہلکاروں کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ ہوا، خود کش حملہ آور نے اسی دوران خود کو مرکزی دروازے پر اڑا لیا ۔
اطلاعات کے مطابق دھماکے میں آئی جی اسلام آباد کے کزن کا بیٹا بھی شہید ہوا جو نماز پڑھنے کے لیے 3 منزلہ عمارت میں موجود تھا ۔
وزیراعظم شہباز شریف نے ترلائی میں امام بارگاہ کے اندر ہونے والے دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہادتوں پرافسوس کا اظہار کیا اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کی دعا کی ہے، وزیراعظم نے وزیرداخلہ محسن نقوی سے ملاقات کرکے واقعے کی تحقیقات کرکے فوری طور پر ذمہ داران کے تعین کی ہدایت کی ہے ۔


