اسلام آباد: بھارت نے سندھ طاس معاہدے کو کمزور روایتی طریقے سے سبوتاژ کرکے آبی دہشت گردی کا ثبوت دیا ہے۔
بھارت کی پانی کو ہتھیار بنانے کی پالیسی بے نقاب ہونے پر نائب صدر پاکستان پیپلز پارٹی سینیٹر شیری رحمان نے سخت ردعمل دیا ہے۔
شیری رحمان نے ایکس پر بیان میں کہا ہے کہ پانی روکنے کے بھارتی عزائم بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے اور بھارت کی آبی جارحیت جنوبی ایشیا کے امن کیلئے ٹائم بم بن رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا ہے کہ نئی دہلی کا آبی دباؤ پاکستان کو بلیک میل کرنے کی ناکام کوشش ہے، بھارت خطے میں پانی کے مسئلے کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے پر اتر آیا ہے۔
شیری رحمان نے مزید کہا ہے کہ چناب-بیاس لنک منصوبہ پاکستان کے آبی حقوق پر بڑا حملہ ہے، دریاؤں کا رخ موڑنے کی بھارتی منصوبہ بندی علاقائی استحکام کیلئے خطرناک ہے، بھارت کی انتہاپسند آبی پالیسی خطے کو مستقل کشیدگی کی طرف دھکیل رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پانی پر قبضے کی بھارتی سوچ خطے میں نئے تنازعے کو جنم دے سکتی، بھارت کی آبی جارحیت عالمی معاہدوں اور انسانی اقدار کی سراسر نفی ہے۔
انہوں نے پاکستان کا آبی حقوق سلب کرنے کی ہر بھارتی کوشش ناکام بنانے کے عزم کا پختہ اظہار کیا اور کہا کہ آبی محاذ پر بھارتی اشتعال انگیزی خطے کے مستقبل کیلئے سنگین خطرہ ہوگی۔


