Close Menu
K2 Times | کے ٹو ٹائمزK2 Times | کے ٹو ٹائمز
    مقبول خبریں
    حکومت

    وفاقی وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے افغان طالبان کے خلاف جاری آپریشن غضب للحق کی تفصیلات جاری کردیں

    مارچ 3, 2026
    بین الاقوامی

    چیئرمین سینیٹ سے زرعی ترقیاتی بینک لمیٹڈ کے صدر کی ملاقات،کسانوں کو درپیش چیلنجز، زرعی ترقی کے فروغ پرگفتگو

    مارچ 3, 2026
    چترال

    لوئر چترال ٹی ایچ کیو ہسپتال دروش میں پہلی مرتبہ نئے ڈائلائسز یونٹ افتتاح کر دیا گیا۔

    مارچ 3, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    مارچ 3, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    K2 Times | کے ٹو ٹائمزK2 Times | کے ٹو ٹائمز
    رابطہ کریں کےٹو ٹی وی
    • صفحہ اول
    • قومی خبریں
    • ہزارہ
    • پوٹھوہار
    • گلگت بلتستان
    • چترال
    • شوبز
    • دلچسپ و عجیب
    • کھیل
    • کےٹو ٹی وی
    KAY2 TV
    K2 Times | کے ٹو ٹائمزK2 Times | کے ٹو ٹائمز
    You are at:Home»گلگت بلتستان»گلگت بلتستان: نگران دور میں این او سی کا اجرا: آئین، عدلیہ اور الیکشن کمیشن کی ذمہ داری, تحریر: علی شیر
    گلگت بلتستان فروری 11, 2026

    گلگت بلتستان: نگران دور میں این او سی کا اجرا: آئین، عدلیہ اور الیکشن کمیشن کی ذمہ داری, تحریر: علی شیر

    فروری 11, 20265 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Email

    یہ تحریر ضلع استور حلقہ 02 میں سامنے منظر عام آنے والے ایک متنازع عمل پر عوام کے آگاہی کے لئیے لکھ رہا ہوں، کہا یہ جاتا ہے کہ ایک محکمہ نے الیکشن کمیشن سے باقاعدہ این او سی حاصل کرکے چند ترقیاتی اسکیموں کا اجراء کیا ان ترقیاتی اسکیموں کا براہ راست تعلق سابق وزیر داخلہ شمس الحق لون سے ہے چونکہ یہ ان کے دور کی رکھی گئی اسکیمیں تھی، جاری کردہ اسکیموں پر ایک سیاسی جماعت کے امیدوار محمد فاروق رانا نے الیکشن کمیشن کو ایک تحریری درخواست دی جس کا متن یہ تھا کہ نگران حکومت میں اسکیموں کا اجراء آئین کے منافی ہے اور یہ کہ اس عمل سے متعلقہ حلقے میں الیکشن عمل متاثر ہوسکتا ہے، اس  درخواست کی بنیاد پر الیکشن کمیشن نے جاری کردہ این او سی کو معطل کردیا جس کی بنیاد پر اسکیمیں بھی فی الوقت روک دی گئی۔

     

    آئیے پہلے یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیکہ آئین کی روح سے کیا الیکشن کمیشن یا نگران حکومت کسی بھی حلقے میں ترقیاتی اسکیموں کے اجراء کا حکمنامہ یا این او سی اجراء کا اختیار رکھتے ہیں یا نہیں

     

    گلگت بلتستان میں نگران حکومت کے قیام کا مقصد آئینی طور پر صرف اور صرف آزاد، منصفانہ اور شفاف انتخابات کا انعقاد ہے۔ یہ مقصد نہ کوئی سیاسی نعرہ ہے اور نہ انتظامی سہولت، بلکہ ایک آئینی فریضہ ہے جس کی نگرانی براہِ راست الیکشن کمیشن پر عائد ہوتی ہے۔ ایسے میں اگر نگران دور میں ترقیاتی اسکیموں کے اجراء کے لیے الیکشن کمیشن این او سی جاری کرتا ہے تو یہ عمل آئین، عدالتی نظائر اور انتخابی ضابطۂ اخلاق—تینوں سے متصادم دکھائی دیتا ہے۔

    آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 218(3) واضح طور پر الیکشن کمیشن کو پابند کرتا ہے کہ وہ انتخابات کا انعقاد ایمانداری، شفافیت اور غیر جانبداری کے ساتھ یقینی بنائے۔ سپریم کورٹ نے متعدد فیصلوں میں قرار دیا ہے کہ یہ شق محض رسمی ہدایت نہیں بلکہ ایک فعال آئینی ذمہ داری ہے۔

    مشہور مقدمہ Workers Party Case (PLD 2012 SC 681) میں عدالتِ عظمیٰ نے واضح کیا کہ الیکشن کمیشن کا فرض صرف الیکشن کروانا نہیں بلکہ انتخابی عمل کو ہر قسم کے اثر و رسوخ، سرکاری مداخلت اور غیر منصفانہ برتری سے پاک رکھنا ہے۔

    اسی تناظر میں نگران حکومت کے اختیارات ہمیشہ محدود تصور کیے گئے ہیں۔ سپریم کورٹ نے Mustafa Impex Case (PLD 2016 SC 808) سمیت دیگر فیصلوں میں اس اصول کو تقویت دی کہ عبوری یا نگران سیٹ اپ کوئی ایسا فیصلہ نہیں کر سکتا جس کے دور رس سیاسی یا مالی اثرات ہوں۔ ترقیاتی اسکیموں کا اجراء بلاشبہ ایسا ہی اقدام ہے جس کے نتائج انتخابی سیاست پر براہِ راست مرتب ہوتے ہیں۔

    الیکشن کمیشن آف پاکستان کا ضابطۂ اخلاق برائے انتخابات بھی اس حوالے سے دوٹوک ہے۔ ضابطہ کے مطابق نگران حکومت:

    کسی نئی ترقیاتی اسکیم کا آغاز نہیں کر سکتی

    کسی ایسے اقدام کی اجازت نہیں دے سکتی جو ووٹرز کو متاثر کرے

    اور ریاستی وسائل کو انتخابی فائدے کے لیے استعمال نہیں ہونے دے سکتی

    اگر اس کے باوجود کسی اسکیم کے لیے این او سی جاری کیا جائے تو یہ عمل محض انتظامی اجازت نہیں رہتا بلکہ ضابطۂ اخلاق کی کھلی خلاف ورزی بن جاتا ہے۔

    عدالتی نظائر یہ بھی بتاتے ہیں کہ انتخابی بے ضابطگی کو نیت کے بجائے اثر (effect) کی بنیاد پر جانچا جاتا ہے۔ سپریم کورٹ نے Air Marshal (R) Asghar Khan Case (PLD 2013 SC 1) میں قرار دیا کہ اگر ریاستی وسائل یا اختیارات انتخابی عمل پر اثرانداز ہوں تو وہ عمل غیر آئینی تصور ہوگا، چاہے اس کے پیچھے بدنیتی ثابت ہو یا نہ ہو۔

    گلگت بلتستان کے تناظر میں اگر کوئی ترقیاتی اسکیم کسی مخصوص حلقے میں شروع ہوتی ہے، اور امیدوار اسے افتتاح، تشہیر یا کریڈٹ کی صورت میں اپنی مہم کا حصہ بناتا ہے، تو یہ Level Playing Field کے اصول کی صریح نفی ہے۔ ایسی صورت میں الیکشن کمیشن کی جانب سے این او سی کا اجرا خود ادارے کو قانونی سوالات کی زد میں لے آتا ہے۔

    قانون یہ اجازت صرف انتہائی ہنگامی اور ناگزیر معاملات میں دیتا ہے، جیسے قدرتی آفات یا انسانی جانوں کو فوری خطرات۔ اس کے علاوہ کسی بھی ترقیاتی سرگرمی کی اجازت دینا نہ صرف آئینی انحراف ہے بلکہ مستقبل میں انتخابی نتائج کو عدالت میں چیلنج کرنے کا جواز بھی فراہم کرتا ہے۔

    نتیجتاً یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ نگران دور میں ترقیاتی اسکیموں کے لیے این او سی جاری کرنا:

    آرٹیکل 218(3) کی روح کے منافی

    سپریم کورٹ کی تشریحات سے متصادم

    اور انتخابی ضابطۂ اخلاق کی واضح خلاف ورزی ہے

    الیکشن کمیشن کو چاہیے کہ وہ ایسے تمام این او سی کا فوری ازسرِنو جائزہ لے، انہیں منسوخ کرے اور آئندہ آئین و عدلیہ کی واضح ہدایات کی روشنی میں فیصلے کرے۔ کیونکہ اگر آئینی ادارے ہی قانون کی حدود سے تجاوز کریں گے تو نقصان کسی ایک امیدوار یا جماعت کا نہیں بلکہ جمہوری نظام کے اعتماد کا ہوگا۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleایکسائز اینڈ نارکوٹکس پولیس ایبٹ آباد کی بڑی کارروائی ،منشیات کی بھاری کھیپ سمگل کرنے کی کوشش ناکام
    Next Article مسلط کی گئی شہادت, تحریر: ڈاکٹر حمیرا عنبرین
    Idrees
    • Website

    Related Posts

    کمانڈر ایف سی این اے کا سکردو دورہ، سکیورٹی صورتحال کا جائزہ اور امن و امان کی یقین دہانی

    مارچ 3, 2026

    گلگت بلتستان میں تین روزہ کرفیو نافذ، پرتشدد مظاہروں میں 14 افراد جاں بحق

    مارچ 2, 2026

    گلگت بلتستان میں بجلی کے 628 ملین روپے سے زائد بقایاجات کا انکشاف

    فروری 23, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    تازہ ترین خبریں
    حکومت

    وفاقی وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے افغان طالبان کے خلاف جاری آپریشن غضب للحق کی تفصیلات جاری کردیں

    مارچ 3, 2026
    بین الاقوامی

    چیئرمین سینیٹ سے زرعی ترقیاتی بینک لمیٹڈ کے صدر کی ملاقات،کسانوں کو درپیش چیلنجز، زرعی ترقی کے فروغ پرگفتگو

    مارچ 3, 2026
    چترال

    لوئر چترال ٹی ایچ کیو ہسپتال دروش میں پہلی مرتبہ نئے ڈائلائسز یونٹ افتتاح کر دیا گیا۔

    مارچ 3, 2026
    خاص خبریں

    کوہستان مالیاتی اسکینڈل میں ایک اور ملزم نے پلی بارگین کی درخواست دیدی۔

    مارچ 3, 2026
    • Facebook
    • YouTube
    • Twitter
    • Instagram
    نمایاں خبریں
    اپریل 15, 2024

    پنجاب بائیک سکیم: آن لائن رجسٹریشن کیسے کریں؟ مرحلہ وار گائیڈ چیک کریں

    خاص خبریں

    پنجاب حکومت نے ریجن کے طلباء کو بلاسود ماہانہ اقساط پر موٹر سائیکلوں کی رجسٹریشن…

    شوبز

    فنکاروں کے حقوق مزید نظرانداز نہ کیے جائیں، جہاں فنکار ہوگا وہاں امن ہوگا: احمد سجاد

    فروری 25, 2026
    کھیل

    ٹی 20 ورلڈ کپ کے چوتھے میچ میں نیوزی لینڈ نے افغانستان کو 5 وکٹ سے ہرادیا

    فروری 8, 2026
    ایڈیٹر کا انتخاب
    خاص خبریں

    پنجاب بائیک سکیم: آن لائن رجسٹریشن کیسے کریں؟ مرحلہ وار گائیڈ چیک کریں

    اپریل 15, 2024
    خاص خبریں

    پنجاب میں 50,000 گھروں کے لیے مفت سولر پینل! کیا آپ درخواست دینے کے اہل ہیں؟ یہاں چیک کریں!

    اپریل 16, 2024
    خاص خبریں

    ایبٹ آباد میں لاپتہ لیڈی ڈاکٹر وردہ کی لاش چار دن بعد برآمد، ڈاکٹروں کا احتجاج

    دسمبر 8, 2025
    مقبول خبریں
    حکومت

    وفاقی وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے افغان طالبان کے خلاف جاری آپریشن غضب للحق کی تفصیلات جاری کردیں

    مارچ 3, 2026
    بین الاقوامی

    چیئرمین سینیٹ سے زرعی ترقیاتی بینک لمیٹڈ کے صدر کی ملاقات،کسانوں کو درپیش چیلنجز، زرعی ترقی کے فروغ پرگفتگو

    مارچ 3, 2026
    چترال

    لوئر چترال ٹی ایچ کیو ہسپتال دروش میں پہلی مرتبہ نئے ڈائلائسز یونٹ افتتاح کر دیا گیا۔

    مارچ 3, 2026

    نئے فالو اپ کے ساتھ

    ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں۔

    .K2Times © 2026. All Rights Reserved

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.