گلگت: دیامر بھاشا ڈیم متاثرین کے دھرنے کو49دن پورے ہوگئے،تاحال حکومت مطالبات ماننے کوتیار نہ ہوئی، مظاہرین نے سخت ردعمل دینے کا فیصلہ کرلیا۔
حقوق دو ڈیم بناو تحریک کے سربراہ مولانا حضرت اللہ نے علما عمائدین اور حلف یافتہ نوجوانوں سے میٹنگ کرنے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے صوبائی اور وفاقی حکومت کو عید الفطر کی چھٹیوں کے ختم ہونے تک کی ڈیڈلائن دی تھی جو پوری ہوچکی ہے،اب جس روز علما کرام کال دیں گے کہ ڈیم سائیڈ کی طرف رخ کرنا ہے روڈ کی طرف جانا ہے یا پہاڑوں پر چڑھنا ہے ہم مکمل طور پر تیار ہیں . اسی حوالے سے کل تاگیر ویلی میں اہم مٹننگ ہے جس میں علما جائیں گے . ارباب اختیار کے پاس اب بھی تھوڑا وقت ہے کہ وہ ہمارے چارٹر آف ڈیمانڈ کو مان کے نیا معاہدہ 2025ء کر لیں ورنہ متاثرین کی طرف سے سخت رد عمل آنے کے بعد جو بھی نقصان اور بدامنی ہوگی اس کی ذمہ دار ضلعی انتظامیہ ،صوبائی انتظامیہ اور وفاقی حکومت ہو گی۔ انہوں نے ضلع دیامر کے عوام سے کہا کہ وہ اگلی کال کا انتظار کریں۔