Close Menu
K2 Times | کے ٹو ٹائمزK2 Times | کے ٹو ٹائمز
    مقبول خبریں
    فیچرڈ

    ورلڈ بینک کے صدر اجے بنگا کا اقوام متحدہ کے وفد کے ہمراہ خان پور کا دورہ

    فروری 2, 2026
    بلاگ

    صنعتی نرخوں میں بڑی کمی: ڈاکٹر حمیرا عنبرین

    فروری 2, 2026
    خاص خبریں

    پشاور میں 6 ہزار سے زائد کھلے مین ہولز، شہریوں کی جانوں کے لیے خطرہ

    فروری 2, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    فروری 2, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    K2 Times | کے ٹو ٹائمزK2 Times | کے ٹو ٹائمز
    رابطہ کریں کےٹو ٹی وی
    • صفحہ اول
    • قومی خبریں
    • ہزارہ
    • پوٹھوہار
    • گلگت بلتستان
    • چترال
    • شوبز
    • دلچسپ و عجیب
    • کھیل
    • کےٹو ٹی وی
    KAY2 TV
    K2 Times | کے ٹو ٹائمزK2 Times | کے ٹو ٹائمز
    You are at:Home»بلاگ»صنعتی نرخوں میں بڑی کمی: ڈاکٹر حمیرا عنبرین
    بلاگ فروری 2, 2026

    صنعتی نرخوں میں بڑی کمی: ڈاکٹر حمیرا عنبرین

    فروری 2, 20269 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Email

    پاکستان کی معاصر معیشت ایک طویل عرصے سے پالیسی تضادات، ساختی ناہمواریوں، اور تزویراتی بے سمت رویّوں کا شکار رہی ہے، جس کے نتیجے میں قومی صنعتی ڈھانچے کو سخت ابتری، تنزّل اور غیر مسابقتی کیفیت کا سامنا کرنا پڑا۔ وہ اقتصادی ماحول جو کسی بھی ملک کی پیداواری توانائی کو مہمیز دیتا ہے، پاکستان میں ایک ناقابلِ عبور خلیج کی صورت اختیار کر چکا تھا، جہاں صنعت نہ صرف ریاستی تائید سے محروم رہی، بلکہ اس پر مالیاتی دباؤ، ادارہ جاتی تغافل، اور پالیسی اضمحلال کا سہ طرفہ بار بھی عائد رہا۔

    اس تناظر میں، وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ قیادت جنوری ۲۰۲۶ میں پیش کی جانے والی معاشی اصلاحات، بالخصوص صنعتی صارفین کے لیے بجلی کے نرخوں میں رعایت، ایک نہایت اہم اور پالیسیاتی طور پر قابلِ اعتنا اقدام کی حیثیت رکھتی ہیں۔ یہ فیصلے بظاہر انتظامی نوعیت کے محسوس ہو سکتے ہیں، لیکن ان کی تہہ میں ایک دیرینہ معاشی بیماری کی تشخیص اور ابتدائی علاج کا پہلو مضمر ہے۔ صنعتی اداروں کو فی یونٹ ۴.۴ روپے کی جو رعایت دی گئی ہے، وہ دراصل اُس بوجھ کے ازالے کی ابتدا ہے جو انہیں برسہا برس سے گھریلو و مراعات یافتہ صارفین کی سبسڈی کے تحت جھیلنا پڑا۔

    یہ امر باعثِ حیرت نہیں کہ پاکستان کا صنعتی شعبہ کئی دہائیوں سے ایسے نرخوں پر بجلی خریدنے پر مجبور رہا جو اس کی پیداواری استعداد اور بین الاقوامی مسابقت کو براہِ راست مجروح کرتے رہے۔ یہ نظام، جسے عرفِ عام میں "کراس سبسڈی” کا نام دیا گیا، اپنی اصل میں ایک غیر منصفانہ مالیاتی انتقالِ بوجھ ہے، جس نے صنعت کو قومی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی بنانے کے بجائے، ایک کفایت شعار مریض بنا کر رکھ دیا۔ ایس ایم تنویر، جو فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے ممتاز رہنما اور یونائیٹڈ بزنس گروپ کے سرپرست اعلیٰ ہیں، برسوں سے اس بے ہنگم مالیاتی نظام کی نشان دہی کرتے چلے آئے ہیں۔ ان کے مطابق، صنعت پر عائد ہونے والی اضافی فی یونٹ لاگت ۴.۵ سے ۷ روپے کے درمیان ہے، جو سالانہ بنیاد پر ۱۳۱ ارب روپے کے لگ بھگ ہو جاتی ہے۔ یہ رقم محض ایک ہندسی مقدار نہیں بلکہ ایک ایسی ساختی رکاوٹ کی علامت ہے جو پاکستان کی برآمدی اہلیت کو رفتہ رفتہ زائل کر چکی ہے۔

    وزیرِ اعظم نے نہایت صراحت سے ان حقائق کا اعتراف کیا اور اس اقدام کو ریاست کی اقتصادی حکمتِ عملی کا مرکزی ستون قرار دیا۔ اُن کا یہ اعتراف درحقیقت اُس دیرینہ غفلت کی تلافی کا آغاز ہے جو ریاست نے صنعت کے معاملے میں اختیار کیے رکھی۔ اس کا مفہوم صرف ریلیف دینا نہیں بلکہ ریاستی ترجیحات کے فکری زاویے میں ایک واضح تبدیلی ہے—جہاں صنعت کو محض محصولات کی گائے سمجھنے کے بجائے، قومی وقار، خود انحصاری، اور برآمدی تحریک کا امین تسلیم کیا جا رہا ہے۔ اگر یہ طرزِ نظر پالیسی تسلسل اور ادارہ جاتی ہم آہنگی کے ساتھ بروئے کار آتی ہے، تو یہ فیصلہ پاکستان کو صارفیت زدہ معیشت سے نکال کر پیداواری و برآمدی معیشت کی طرف گامزن کر سکتا ہے۔

    صنعتی بجلی نرخوں میں جزوی مگر فیصلہ کن کمی کو اگر تو یہ اقدام ایک سہولت بخش انتظامی حکم سے زیادہ محسوس نہ ہو گا، مگر جب ہم اس پالیسی کو دیگر ہم آہنگ اصلاحات کے سیاق میں رکھ کر پرکھتے ہیں تو اس کی معنویت اور دائرۂ اثر غیر معمولی حد تک وسیع دکھائی دیتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں حالیہ حکومتی اقدامات ایک باقاعدہ اقتصادی منصوبہ بندی کا رخ اختیار کرتے ہیں، اور ہمیں یہ باور کراتے ہیں کہ اگر یہ سوچ مستقل مزاجی اور ادارہ جاتی استحکام کے ساتھ مربوط رہی، تو پاکستان کی معیشت کو ایک نیا تعمیری بیانیہ فراہم کیا جا سکتا ہے۔

    برآمدی ری فنانسنگ کی شرح میں نمایاں کمی، جس کے تحت سود کی شرح کو ۷.۵ فیصد سے گھٹا کر ۴.۵ فیصد تک لایا گیا، نہ صرف ایک مالیاتی فیصلہ ہے بلکہ اس میں وہ وژن بھی مضمر ہے جو پیداواری معیشت کو نقدی کی ترسیل، سرمایہ کاری کی تحریک، اور بین الاقوامی مسابقت کے قابل بنانے کی سکت رکھتا ہے۔ پاکستان جیسے معاشی تناؤ کے شکار ملک میں جہاں شرحِ سود گزشتہ برسوں میں ۲۱ فیصد کی بلند ترین سطح تک جا پہنچی تھی، ایسے حالات میں برآمدی صنعتوں کو سستے قرض کی دستیابی نہایت اہم اقتصادی محرک ہے۔ اس سے چھوٹے اور درمیانے درجے کے ادارے وہ مالیاتی سہارا حاصل کر سکتے ہیں جس کے بغیر وہ عالمی برآمدی زنجیر میں فعال کردار ادا کرنے سے قاصر رہے۔

    یہ بات قابلِ غور ہے کہ بینکاری نظام کی ساخت پاکستان میں ہمیشہ سے بڑے اداروں کی طرف مائل رہی ہے۔ چھوٹے صنعتکاروں، نئے کاروباری افراد، اور مقامی سطح کی پیداوار سے وابستہ اداروں کو وہ مالیاتی شفافیت اور سہولت حاصل نہیں ہو سکی جو ایک متوازن معیشت کے لیے بنیادی ہوتی ہے۔ اب اگر یہ شرحِ سود کم کی گئی ہے اور حکومت نے بینکاری نظام کو اس میں اپنا فعال کردار ادا کرنے پر آمادہ کیا ہے، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ریاست ایک ایسی معیشت کی تشکیل کی طرف متوجہ ہے جس میں چھوٹے اور درمیانے کاروبار معیشت کی ریڑھ کی ہڈی بنیں، نہ کہ بڑے کارپوریشنز کا انحصاری ماڈل۔

    مزید برآں، حکومت کی جانب سے وہیلنگ چارجز میں کمی، جو کہ صنعتی یونٹس کو قابلِ تجدید توانائی (جیسا کہ شمسی و بادی ذرائع) کی پیداوار کے بعد اضافی بجلی قریبی صنعتی اکائیوں کو قومی گرڈ کے ذریعے منتقل کرنے کی سہولت فراہم کرتی ہے، نہایت دور رس اثرات کی حامل پالیسی ہے۔ یہ اصلاح محض تکنیکی ترمیم نہیں بلکہ اس کے ذریعے صنعتی توانائی نظم میں ایک نئی اخلاقی جہت شامل کی گئی ہے: خود انحصاری، ماحولیاتی استحکام، اور توانائی کی مساوی تقسیم۔ قابلِ تجدید توانائی کی ترسیل کو وہیلنگ چارجز کی بلند شرح کے ذریعے جو مسدود کیا گیا تھا، وہ اب قومی معیشت میں ایک معاشی اور اخلاقی انجماد بن چکا تھا۔ حکومت نے جب اس بندش کو ختم کیا، تو گویا ایک ایسا دروازہ کھولا جو صنعت کو نہ صرف توانائی کے متبادل ذرائع کی جانب راغب کرے گا، بلکہ عالمی برآمدی منڈی میں ESG (Environmental, Social, Governance) معیارات کے تحت پاکستان کی ساکھ کو بھی بہتر بنائے گا۔

    یہ تمام اصلاحات اُس کڑے تاریخی سیاق میں وقوع پذیر ہو رہی ہیں جب ۲۰۲۳ کا مالیاتی بحران پاکستان کو دیوالیہ پن کی نہج تک لے آیا تھا۔ وزیرِ اعظم نے خود اس امر کا اعتراف کیا کہ اُس وقت ریاست کو ایک ناقابلِ تلافی نقصان سے بچانے کے لیے نہ صرف بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ساتھ مشکل مذاکرات کرنا پڑے، بلکہ چین، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، اور قطر جیسے حلیف ممالک سے ہنگامی مالیاتی سہارا حاصل کرنا پڑا۔ ان اقدامات سے وقتی استحکام تو حاصل ہو گیا، مگر یہ استحکام محض ایک سطحی توازن تھا، جو اُس وقت تک برقرار نہیں رہ سکتا تھا جب تک ریاست اپنی معیشت کی بنیادی ساخت کو بدلنے کے لیے تیار نہ ہو۔

    اب جب کہ زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوا ہے، مہنگائی کی شرح سنگل ڈیجٹ میں واپس آ گئی ہے، اور شرحِ سود میں بھی واضح کمی ہوئی ہے، تو یہ سب اشارے اس امر کے ہیں کہ پاکستان نے معاشی استحکام کی جانب ابتدائی پیش رفت ضرور کی ہے۔ لیکن جیسا کہ وزیرِ اعظم نے بروقت نشاندہی کی، استحکام کی یہ کیفیت ترقی کی ضمانت نہیں۔ حقیقی ترقی کا آغاز اُس وقت ہوتا ہے جب پالیسی اصلاحات کا دائرہ پیداواری عمل کے مرکز تک پہنچتا ہے، اور صنعت کو ریاستی پالیسی میں صرف محصولاتی ذریعہ نہیں بلکہ حکمتِ عملی کا مرکزی کردار تسلیم کیا جاتا ہے۔

    یہی وہ موقف ہے جس پر ایس ایم تنویر مسلسل زور دیتے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ صنعت کو دی جانے والی کسی بھی رعایت کو "سبسڈی” کے نام پر بدنام کرنا محض ایک بیوروکریٹک مغالطہ ہے، جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ اُن کے بقول، صنعت نہ صرف قومی آمدن میں حصہ ڈالتی ہے بلکہ برآمدات کو وسعت دیتی ہے، روزگار پیدا کرتی ہے، اور معاشی خود انحصاری کا باعث بنتی ہے۔ ایسے میں، اس شعبے پر غیر منصفانہ مالیاتی بوجھ ڈالنا نہ صرف اقتصادی حکمتِ عملی کے منافی ہے بلکہ ایک طرح سے قومی خودکشی کے مترادف ہے۔

    ان کی یہ رائے اب محض ایک صنعتکار کی فریاد نہیں بلکہ ایک ایسا تزویراتی نکتہ نظر ہے جسے ریاستی پالیسی سازوں کو نہایت سنجیدگی سے اپنانا ہو گا۔ صنعت کو قومی منصوبہ بندی کا محور بنانا محض اقتصادی فائدے کا موجب نہیں، بلکہ یہ وہ اخلاقی و تہذیبی ذمہ داری بھی ہے جو ہر خود مختار ریاست کو اپنے شہریوں اور اُن کی محنت کے ساتھ نبھانی چاہیے۔ اس سے بڑھ کر کسی بھی ریاست کی ساکھ کیا ہو سکتی ہے کہ وہ اپنی پیداواری قوت کو عزت دے، اُس کا بوجھ کم کرے، اور اُسے ترقی کے لیے موزوں ماحول فراہم کرے۔

    ان تمام اصلاحات کا دیرپا اثر اسی صورت میں ممکن ہے جب ان کو پالیسی تسلسل، ادارہ جاتی نفاذ، اور سیاسی استقامت کے ساتھ مربوط کر کے نافذ کیا جائے۔ پاکستانی معیشت کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ بسا اوقات عمدہ معاشی تجاویز، اگر سیاسی مفاد یا بیوروکریٹک تاخیر کی نذر ہو جائیں، تو نہ صرف اپنا اثر کھو بیٹھتی ہیں بلکہ عوامی اعتماد کو بھی نقصان پہنچاتی ہیں۔ یہ وقت ہے کہ ان اقدامات کو وقتی ریلیف کے بجائے ایک جامع معاشی وژن کا حصہ بنایا جائے، تاکہ صنعت کو مکمل شراکت دار تسلیم کیا جا سکے۔

    اگر حکومت پیداواری لاگت میں کمی، مالیاتی سہولتوں کی فراہمی، اور توانائی اصلاحات جیسے اقدامات کو برقرار رکھے، اور ان کے ساتھ ساتھ لاجسٹک بہتری، کسٹم اصلاحات، اور برآمدی سہولت کاری کے لیے جدید ڈیجیٹل نظام متعارف کروائے، تو وہ ہدف جو سنہ ۲۰۳۰ تک ۱۰۰ ارب ڈالر کی برآمدات کی صورت میں مقرر کیا گیا ہے، محض ایک خواہش نہیں بلکہ ایک ممکن حقیقت میں تبدیل ہو سکتا ہے۔

    ایس ایم تنویر کا یہ موقف کہ "صنعت کا تحفظ کوئی رعایت نہیں بلکہ ریاستی فرض ہے” اب صرف ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک قومی اقتصادی منشور کی حیثیت رکھتا ہے۔ حکومت اور نجی شعبے کے درمیان باہمی اعتماد، شفاف مکالمہ، اور ادارہ جاتی شراکت ہی وہ ستون ہیں جن پر پاکستان کی آئندہ دہائی کی معاشی عمارت تعمیر ہو سکتی ہے۔
    اگر یہی سمت برقرار رہی، تو پاکستان نہ صرف معاشی بحرانوں سے نکلے گا بلکہ ایک ایسی معیشت کے طور پر ابھرے گا جو خود کفیل، پائیدار، اور علاقائی سطح پر مسابقتی ہو گی۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleپشاور میں 6 ہزار سے زائد کھلے مین ہولز، شہریوں کی جانوں کے لیے خطرہ
    Next Article ورلڈ بینک کے صدر اجے بنگا کا اقوام متحدہ کے وفد کے ہمراہ خان پور کا دورہ
    Idrees
    • Website

    Related Posts

    ٹورازم کے شعبے سے پاکستان 40 ارب ڈالر تک آمدن حاصل کر سکتا ہے، سردار الیاس خان

    فروری 1, 2026

    صنعتی ایمرجنسی: قومی معیشت کا نوحہ: ڈاکٹر حمیرا عنبرین

    جنوری 30, 2026

    پاکستان اور موسمیاتی تبدیلی: ایک سنگین چیلنج

    اگست 25, 2025
    Leave A Reply Cancel Reply

    تازہ ترین خبریں
    فیچرڈ

    ورلڈ بینک کے صدر اجے بنگا کا اقوام متحدہ کے وفد کے ہمراہ خان پور کا دورہ

    فروری 2, 2026
    خاص خبریں

    پشاور میں 6 ہزار سے زائد کھلے مین ہولز، شہریوں کی جانوں کے لیے خطرہ

    فروری 2, 2026
    خاص خبریں

    پنجاب اور خیبر پختونخوا کے بالائی علاقوں میں بارش و برفباری کی پیشگوئی، الرٹ جاری

    فروری 2, 2026
    پوٹھوہار

    مری کی خوبصورتی کو چار چاند لگ گئے، شہر روشنیوں سے سجا دیا گیا

    فروری 2, 2026
    • Facebook
    • YouTube
    • Twitter
    • Instagram
    نمایاں خبریں
    اپریل 15, 2024

    پنجاب بائیک سکیم: آن لائن رجسٹریشن کیسے کریں؟ مرحلہ وار گائیڈ چیک کریں

    خاص خبریں

    پنجاب حکومت نے ریجن کے طلباء کو بلاسود ماہانہ اقساط پر موٹر سائیکلوں کی رجسٹریشن…

    خاص خبریں

    آزاد کشمیر میں برفباری سے جانی و مالی نقصان، 11 گھر مکمل تباہ

    جنوری 26, 2026
    خاص خبریں

    ایبٹ آبادمیں ڈاکٹر کی مبینہ غفلت سے 14 سال کا لڑکا جاں بحق ہوگیا۔

    جنوری 28, 2026
    ایڈیٹر کا انتخاب
    خاص خبریں

    پنجاب بائیک سکیم: آن لائن رجسٹریشن کیسے کریں؟ مرحلہ وار گائیڈ چیک کریں

    اپریل 15, 2024
    خاص خبریں

    پنجاب میں 50,000 گھروں کے لیے مفت سولر پینل! کیا آپ درخواست دینے کے اہل ہیں؟ یہاں چیک کریں!

    اپریل 16, 2024
    خاص خبریں

    ایبٹ آباد میں لاپتہ لیڈی ڈاکٹر وردہ کی لاش چار دن بعد برآمد، ڈاکٹروں کا احتجاج

    دسمبر 8, 2025
    مقبول خبریں
    فیچرڈ

    ورلڈ بینک کے صدر اجے بنگا کا اقوام متحدہ کے وفد کے ہمراہ خان پور کا دورہ

    فروری 2, 2026
    خاص خبریں

    پشاور میں 6 ہزار سے زائد کھلے مین ہولز، شہریوں کی جانوں کے لیے خطرہ

    فروری 2, 2026
    خاص خبریں

    پنجاب اور خیبر پختونخوا کے بالائی علاقوں میں بارش و برفباری کی پیشگوئی، الرٹ جاری

    فروری 2, 2026

    نئے فالو اپ کے ساتھ

    ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں۔

    .K2Times © 2026. All Rights Reserved

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.