اسلام آباد ہائیکورٹ نے 27 ستمبر کو پاکستان تحریک انصاف کے ممکنہ احتجاج اور لانگ مارچ کے خلاف دائر درخواست پر لارجر بینچ تشکیل دیتے ہوئے 10 ستمبر تک جواب طلب کر لیا ہے ۔
اسلام آباد: چیف جسٹس اسلام آباد سرفراز ڈوگر نے معاملے کو آئینی بحران کے مترادف قرار دیتے ہوئے اٹارنی جنرل سے معاونت مانگ لی ہے۔ چیف جسٹس کی سربراہی میں قائم تین رکنی لارجر بینچ بشمول جسٹس اعظم خان اور جسٹس محمد آصف 10 ستمبر کو کیس کی سماعت کرے گا ۔
عدالت نے معاملے کی سنگینی کے پیش نظر چاروں صوبوں کے چیف سیکرٹریز، آئی جیز، ایڈووکیٹ جنرلز سمیت چیف کمشنر، ڈی سی اور آئی جی اسلام آباد کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا ہے ۔
دورانِ سماعت تاجر کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ خیبرپختونخوا کی سرکاری مشینری کے ساتھ اسلام آباد پر چڑھائی کا منصوبہ ہے، جس سے کاروباری زندگی اور عام شہری متاثر ہوں گے ۔
وکیل نے سابقہ احتجاج کے جانی و مالی نقصان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ زیرِ التوا مقدمات پر عدالتی ریلیف کے لیے سڑکوں پر دباؤ ڈالنا غیر قانونی ہے۔ عدالت نے دلائل سننے کے بعد فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت 10 ستمبر تک ملتوی کر دی ۔


