Close Menu
K2 Times | کے ٹو ٹائمزK2 Times | کے ٹو ٹائمز
    مقبول خبریں
    بلاگ

    کمزور مگر خطرناک ایران: ڈاکٹر حمیرا عنبرین

    فروری 5, 2026
    خاص خبریں

    پاکستان اپنے کشمیری بھائیوں کی اخلاقی، سفارتی و سیاسی حمایت جاری رکھے گا، صدر مملکت اور وزیراعظم کا خصوصی پیغام

    فروری 5, 2026
    خاص خبریں

    کشمیریوں کی جدوجہدِ آزادی کو خراجِ تحسین پیش کرنے کیلئے ملک بھر میں یوم یکجہتی کشمیر منایا جا رہا ہے

    فروری 5, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    فروری 5, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    K2 Times | کے ٹو ٹائمزK2 Times | کے ٹو ٹائمز
    رابطہ کریں کےٹو ٹی وی
    • صفحہ اول
    • قومی خبریں
    • ہزارہ
    • پوٹھوہار
    • گلگت بلتستان
    • چترال
    • شوبز
    • دلچسپ و عجیب
    • کھیل
    • کےٹو ٹی وی
    KAY2 TV
    K2 Times | کے ٹو ٹائمزK2 Times | کے ٹو ٹائمز
    You are at:Home»بلاگ»کمزور مگر خطرناک ایران: ڈاکٹر حمیرا عنبرین
    بلاگ فروری 5, 2026

    کمزور مگر خطرناک ایران: ڈاکٹر حمیرا عنبرین

    فروری 5, 20268 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Email

    کمزور مگر خطرناک ایران، یہ فقرہ بظاہر ایک تضاد محسوس ہوتا ہے، مگر موجودہ بین الاقوامی سیاست میں یہی تضاد ایران کو سمجھنے کے لیے سب سے زیادہ معنی خیز نقطۂ آغاز فراہم کرتا ہے۔ عمومی طور پر یہ تصور کیا جاتا ہے کہ داخلی معاشی دباؤ، سیاسی بے چینی اور عوامی ناراضی کسی ریاست کو خارجی سطح پر کمزور اور اطاعت پذیر بنا دیتی ہے۔ مگر بین الاقوامی تعلقات کا تجربہ اس سادہ مفروضے کی تائید نہیں کرتا۔ اکثر ایسے حالات میں، جب کوئی ریاست خود کو بیرونی دباؤ، محاصرے اور وجودی خطرے میں گھرا ہوا محسوس کرتی ہے، تو اس کی کمزوری اطاعت کے بجائے مزاحمت، اور نرمی کے بجائے سختی کو جنم دیتی ہے۔ ایران کی موجودہ کیفیت اسی منطق کے تحت زیادہ درست طور پر سمجھی جا سکتی ہے۔

    اس تجزیے کی مرکزی دلیل یہ ہے کہ ایران کی کمزوری ریاستی انہدام کی علامت نہیں بلکہ ریاستی دباؤ کی کیفیت ہے، اور یہی دباؤ اسے زیادہ غیر متوقع اور تصادم کی طرف مائل بناتا ہے۔ یہاں ریاستی کمزوری اور ریاستی صلاحیت کے درمیان فرق کو واضح کرنا ناگزیر ہے۔ ریاستی کمزوری سے مراد معاشی زوال، سیاسی عدم مقبولیت یا سماجی اضطراب ہو سکتا ہے، جبکہ ریاستی صلاحیت کا تعلق ادارہ جاتی تسلسل، جبر کے ذرائع پر ریاست کی گرفت، اور بحران کے وقت فیصلہ سازی کی اہلیت سے ہوتا ہے۔ ایران اگرچہ معاشی طور پر شدید پابندیوں اور اندرونی بدانتظامی کا شکار رہا ہے، مگر اس کی ریاستی ساخت مکمل طور پر منہدم نہیں ہوئی۔ سلامتی سے وابستہ ادارے، فیصلہ سازی کے مراکز اور ریاستی کنٹرول کے بنیادی ڈھانچے بدستور قائم ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایران کو محض ایک “کمزور ریاست” کہنا اس کی اصل حیثیت کو سمجھنے میں ناکافی ہے۔

    ایران کی معاشی مشکلات حقیقی اور گہری ہیں۔ طویل المدت بین الاقوامی پابندیوں نے نہ صرف ریاستی وسائل کو محدود کیا ہے بلکہ عوامی معیارِ زندگی کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔ افراطِ زر، بے روزگاری اور کرنسی کی قدر میں کمی نے عوامی ناراضی کو جنم دیا، جو مختلف اوقات میں احتجاجی تحریکوں کی صورت میں سامنے آئی۔ سیاسی سطح پر نظامِ اقتدار کی مقبولیت میں واضح کمی آئی ہے، اور سماجی سطح پر ریاست اور معاشرے کے درمیان اعتماد کا بحران پیدا ہوا ہے۔ ان تمام عوامل کی بنیاد پر یہ نتیجہ اخذ کرنا آسان ہو جاتا ہے کہ ایران داخلی طور پر کمزور ہو چکا ہے۔ مگر یہی وہ مقام ہے جہاں تجزیہ اکثر غلط رخ اختیار کر لیتا ہے۔

    ریاستی کمزوری کو اکثر ریاستی انہدام کے مترادف سمجھ لیا جاتا ہے، حالانکہ دونوں میں بنیادی فرق موجود ہے۔ ریاستی انہدام اس وقت ہوتا ہے جب ریاست تشدد پر اپنی اجارہ داری کھو دے، ادارے بکھر جائیں، اور فیصلہ سازی کی مرکزیت ختم ہو جائے۔ ایران میں، تمام تر دباؤ کے باوجود، یہ کیفیت پیدا نہیں ہوئی۔ اس کے برعکس، ریاستی جبر کے ذرائع، بالخصوص سلامتی اور عسکری ادارے، مزید مضبوط اور مرکزیت اختیار کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں ایران کو “weak-but-resistant state” کے طور پر دیکھنا زیادہ حقیقت پسندانہ ہو جاتا ہے۔

    بین الاقوامی تعلقات کے نظریاتی ادب میں یہ تسلیم کیا جاتا ہے کہ ایسی ریاستیں جو خود کو محصور یا besieged state سمجھتی ہیں، اکثر زیادہ جارحانہ اور escalation-prone رویہ اختیار کرتی ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہوتی ہے کہ بیرونی دباؤ کو اصلاح کی دعوت کے بجائے وجودی خطرہ سمجھا جاتا ہے۔ ایران کے تناظر میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے مسلسل دباؤ، عسکری دھمکیاں اور پابندیاں محض پالیسی اختلاف نہیں بلکہ نظامِ بقا کے سوال کے طور پر دیکھی جاتی ہیں۔ یہی perception ایران کے ردعمل کی سمت متعین کرتا ہے۔ اس منطق میں کمزوری براہِ راست خطرناک بن جاتی ہے، کیونکہ وجودی خطرے کا احساس restraint کے بجائے deterrence اور retaliation کی طرف لے جاتا ہے۔

    ایران کی خطرناکی کا ایک اہم پہلو اس کی عسکری یا تکنیکی برتری میں نہیں بلکہ اس کی escalation capacity میں مضمر ہے۔ ایران کسی مکمل جنگ کا خواہاں نہیں، مگر اس کے پاس ایسے ذرائع موجود ہیں جو تصادم کو محدود سطح پر قابو میں رکھنے کی صلاحیت کو کمزور بنا سکتے ہیں۔ یہ ذرائع محض عسکری نہیں بلکہ جغرافیائی اور معاشی بھی ہیں۔ خلیج میں توانائی کے راستے، خطے میں امریکی فوجی اڈے، اور عالمی تیل منڈی ایران کو ایسے leverage فراہم کرتے ہیں جو کسی بھی بحران کو علاقائی مسئلہ بننے سے روک سکتے ہیں۔ اس تناظر میں ایران کی کمزوری اسے کم خطرناک نہیں بلکہ زیادہ غیر متوقع بنا دیتی ہے۔

    یہاں ایک اور بنیادی غلط فہمی سامنے آتی ہے، اور وہ یہ تصور ہے کہ داخلی ناراضی لازماً بیرونی مداخلت کے لیے راہ ہموار کرتی ہے۔ ایران کی حالیہ تاریخ اس مفروضے کی تردید کرتی ہے۔ احتجاجی تحریکیں بنیادی طور پر نظامِ اقتدار کے خلاف تھیں، نہ کہ ریاست کے وجود کے خلاف۔ جب بیرونی حملے یا مداخلت کا خدشہ پیدا ہوا تو یہی تحریکیں یا تو کمزور پڑ گئیں یا مکمل طور پر ختم ہو گئیں۔ اس کی وجہ یہ نہیں کہ عوام نے نظامِ اقتدار کی حمایت شروع کر دی، بلکہ یہ کہ ریاستی انہدام کا خوف نظامِ اقتدار سے ناراضی پر غالب آ گیا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں regime اور state کے درمیان فرق پالیسی سازی میں فیصلہ کن اہمیت اختیار کر لیتا ہے۔

    ایران کے معاملے میں یہ فرق نظر انداز کرنے سے پالیسی miscalculation کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ بیرونی دباؤ اکثر یہ فرض کر لیتا ہے کہ داخلی احتجاج کو عسکری یا سفارتی دباؤ کے ساتھ جوڑ کر نظامِ اقتدار کو گرایا جا سکتا ہے۔ مگر جب ایسا نہیں ہوتا تو نتیجہ نہ صرف ناکامی بلکہ زیادہ سخت گیر ریاستی رویے کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ ریاست، جو پہلے ہی خود کو خطرے میں محسوس کر رہی ہوتی ہے، داخلی اصلاحات کے بجائے سلامتی کو اولین ترجیح بنا لیتی ہے۔ یوں وہ کمزور ریاست مزید مزاحمتی اور زیادہ غیر لچکدار بن جاتی ہے۔

    علاقائی سطح پر بھی ایران کی کمزوری کو اکثر یک رخی انداز میں دیکھا جاتا ہے۔ بظاہر ایران سفارتی تنہائی کا شکار ہے، مگر یہ تنہائی مکمل نہیں۔ خطے کی دیگر ریاستیں، خواہ وہ ایران کے ساتھ اختلاف رکھتی ہوں، کسی بڑے تصادم کے ممکنہ نتائج سے بخوبی آگاہ ہیں۔ توانائی کی قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ، بحری راستوں میں خلل اور علاقائی عدم استحکام ایسے عوامل ہیں جو کسی بھی ریاست کو محتاط پالیسی اختیار کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔ اسی لیے سخت بیانات کے باوجود عملی سطح پر جنگ کی طرف پیش قدمی محدود نظر آتی ہے۔ یہ احتیاط اس حقیقت کی عکاس ہے کہ ایران کے ساتھ تصادم ایک دو طرفہ مسئلہ نہیں بلکہ پورے علاقائی نظام کے لیے ایک system shock بن سکتا ہے۔

    یہاں پالیسی سازوں کے لیے سب سے اہم سبق یہ ہے کہ طاقت کے مظاہرے کو کنٹرول کے مترادف نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ عسکری نقل و حرکت اور سخت بیانات وقتی طور پر دباؤ ضرور پیدا کرتے ہیں، مگر وہ اس بنیادی سوال کا جواب نہیں دیتے کہ مطلوبہ سیاسی نتیجہ کیا ہے۔ اگر مذاکرات حقیقی معنوں میں ممکن نہ ہوں، عسکری فتح قابلِ حصول نہ ہو، اور نظامِ اقتدار کی تبدیلی غیر یقینی ہو، تو پالیسی کا حاصل محض عدم استحکام رہ جاتا ہے۔ یہ عدم استحکام بظاہر حریف کو کمزور کرتا ہے، مگر طویل مدت میں پورے خطے اور عالمی نظام کے لیے خطرات پیدا کرتا ہے۔

    ایران کی موجودہ کیفیت میں ایک گہری ستم ظریفی بھی پوشیدہ ہے۔ جتنا زیادہ بیرونی دباؤ بڑھایا جاتا ہے، اتنا ہی داخلی سطح پر یہ دلیل مضبوط ہوتی جاتی ہے کہ ultimate deterrence ہی بقا کی ضمانت ہے۔ یہ سوچ کسی اخلاقی یا نظریاتی وابستگی کا نتیجہ نہیں بلکہ ریاستی بقا کی منطق سے جنم لیتی ہے۔ اس رجحان کا نتیجہ نہ صرف ایران بلکہ عالمی عدم پھیلاؤ کے نظام کے لیے بھی نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ مگر یہ نتیجہ کسی ایک ریاست کی نیت سے نہیں بلکہ ایک ایسے ماحول سے پیدا ہوتا ہے جہاں coercion کو strategy کا متبادل سمجھ لیا گیا ہو۔

    بالآخر “کمزور مگر خطرناک ایران” کا تصور کسی فریق کی وکالت نہیں کرتا بلکہ ایک تجزیاتی حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے۔ یہ تصور ہمیں یہ سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ ایران نہ تو فوری طور پر ٹوٹنے والی ریاست ہے اور نہ ہی ایسا حریف جسے سادہ طاقت کے ذریعے قابو میں لایا جا سکے۔ اس کے ساتھ پالیسی سازی کرتے وقت ریاستی صلاحیت، داخلی نفسیات، علاقائی نظام اور escalation کی حرکیات کو ایک ساتھ سمجھنا ناگزیر ہے۔ بصورتِ دیگر، کمزوری کو کم سمجھنے کی یہ غلطی ایسے نتائج پیدا کر سکتی ہے جو نہ صرف ایران بلکہ پورے خطے کے لیے دیرپا عدم استحکام کا باعث بنیں گے۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleپاکستان اپنے کشمیری بھائیوں کی اخلاقی، سفارتی و سیاسی حمایت جاری رکھے گا، صدر مملکت اور وزیراعظم کا خصوصی پیغام
    Idrees
    • Website

    Related Posts

    وزیراعظم پاکستان سے عالمی بینک کے صدر کی ملاقات، مختلف پروجیکٹس میں تعاون پر سراہا

    فروری 2, 2026

    صنعتی نرخوں میں بڑی کمی: ڈاکٹر حمیرا عنبرین

    فروری 2, 2026

    ٹورازم کے شعبے سے پاکستان 40 ارب ڈالر تک آمدن حاصل کر سکتا ہے، سردار الیاس خان

    فروری 1, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    تازہ ترین خبریں
    خاص خبریں

    پاکستان اپنے کشمیری بھائیوں کی اخلاقی، سفارتی و سیاسی حمایت جاری رکھے گا، صدر مملکت اور وزیراعظم کا خصوصی پیغام

    فروری 5, 2026
    خاص خبریں

    کشمیریوں کی جدوجہدِ آزادی کو خراجِ تحسین پیش کرنے کیلئے ملک بھر میں یوم یکجہتی کشمیر منایا جا رہا ہے

    فروری 5, 2026
    خاص خبریں

    وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سے بڑی اچھی گفتگو ہوئی، وزیراعظم شہبازشریف

    فروری 4, 2026
    شوبز

    شبِ برات کے حوالے سے خیبرسحر پشاور سٹیشن سے نشر کیا گیا

    فروری 4, 2026
    • Facebook
    • YouTube
    • Twitter
    • Instagram
    نمایاں خبریں
    اپریل 15, 2024

    پنجاب بائیک سکیم: آن لائن رجسٹریشن کیسے کریں؟ مرحلہ وار گائیڈ چیک کریں

    خاص خبریں

    پنجاب حکومت نے ریجن کے طلباء کو بلاسود ماہانہ اقساط پر موٹر سائیکلوں کی رجسٹریشن…

    پوٹھوہار

    واہ کینٹ: ڈکیت گروہ ایک گھر سے 3 لاکھ روپے اور طلائی زیورات لے اڑے

    فروری 2, 2026
    بلاگ

    صنعتی ایمرجنسی: قومی معیشت کا نوحہ: ڈاکٹر حمیرا عنبرین

    جنوری 30, 2026
    ایڈیٹر کا انتخاب
    خاص خبریں

    پنجاب بائیک سکیم: آن لائن رجسٹریشن کیسے کریں؟ مرحلہ وار گائیڈ چیک کریں

    اپریل 15, 2024
    خاص خبریں

    پنجاب میں 50,000 گھروں کے لیے مفت سولر پینل! کیا آپ درخواست دینے کے اہل ہیں؟ یہاں چیک کریں!

    اپریل 16, 2024
    خاص خبریں

    ایبٹ آباد میں لاپتہ لیڈی ڈاکٹر وردہ کی لاش چار دن بعد برآمد، ڈاکٹروں کا احتجاج

    دسمبر 8, 2025
    مقبول خبریں
    خاص خبریں

    پاکستان اپنے کشمیری بھائیوں کی اخلاقی، سفارتی و سیاسی حمایت جاری رکھے گا، صدر مملکت اور وزیراعظم کا خصوصی پیغام

    فروری 5, 2026
    خاص خبریں

    کشمیریوں کی جدوجہدِ آزادی کو خراجِ تحسین پیش کرنے کیلئے ملک بھر میں یوم یکجہتی کشمیر منایا جا رہا ہے

    فروری 5, 2026
    خاص خبریں

    وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سے بڑی اچھی گفتگو ہوئی، وزیراعظم شہبازشریف

    فروری 4, 2026

    نئے فالو اپ کے ساتھ

    ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں۔

    .K2Times © 2026. All Rights Reserved

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.