راولپنڈی: ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ افغانستان میں دہشت گردوں کی قیادت، تربیتی کیمپ اور لانچ پیڈز موجود ہیں۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کے مطابق افغانستان وہ بنیادی اڈہ ہے جہاں سے پاکستان میں دہشت گردی ہوتی ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کو دیے گئے انٹرویو میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان کی سوچ بھارت جیسی نہیں کہ تمام داخلی مسائل کو بیرونی قرار دے دیا جائے۔
ہم یہ نہیں کہتے کہ پاکستان میں ہونے والی تمام دہشت گردی صرف افغانستان کی وجہ سے ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے پاس دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے واضح حکمت عملی موجود ہے، جس کا ایک اہم حصہ ملک کے اندر دہشت گردوں اور ان کے تمام سہولت کاروں کا خاتمہ ہے۔
دہشت گردی سے متعلق بعض مسائل ایسے بھی ہیں جنہیں اندرونی طور پر حل کرنا ہوگا۔
احمد شریف چوہدری نے کہا کہ ان سہولت کاروں میں خیبرپختونخوا کی نااہل اور لاتعلق حکومت بھی شامل تھی۔
صوبے میں کسی بڑے فوجی آپریشن کے بجائے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز (IBOS) کیے جا رہے ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق انسداد دہشت گردی کا وہ تجربہ کسی دوسرے ملک یا فوج کے پاس نہیں جو پاکستان نے گزشتہ 20 سال کی جدوجہد کے دوران حاصل کیا ہے۔
سکیورٹی فورسز روزانہ کی بنیاد پر تقریباً 200 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کرتی ہیں، جن میں پولیس، فوج اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے مشترکہ طور پر حصہ لیتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام نے دہشت گردی کے باعث سب سے زیادہ مشکلات برداشت کی ہیں۔
صوبے کے عوام بہادر ہیں اور پاکستانی معاشرے کا اہم حصہ ہیں۔
پشتون اپنی روایات پر فخر کرتے ہیں، جب کہ خیبرپختونخوا کے عوام امن و استحکام کا مطالبہ کرتے ہیں اور اس کے مستحق ہیں۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں کوئی بھی شخص انسداد دہشت گردی کے آپریشنز کے خلاف نہیں، بلکہ ان کی مخالفت وہ لوگ کرتے ہیں جن کا دہشت گردوں سے گٹھ جوڑ ہے۔
ان کے مطابق انسداد دہشت گردی میں رکاوٹ پیدا کرنے والا ایک سہولت کار اب وہاں موجود نہیں۔
حکومت کے خاتمے سے متعلق سوال پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ یہ سیاسی سوال ہے جس کا جواب سیاستدان بہتر دے سکتے ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ دہشت گرد اپنے آقاؤں کے اشاروں پر بلوچستان کی ترقی اور ترقیاتی منصوبوں کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں دہشت گرد مائننگ، ایل پی جی ٹرکوں، سکولوں اور اساتذہ کو نشانہ بناتے ہیں.
دہشت گرد پلوں اور ریلوے لائنوں کو تباہ کرنے کی کوشش بھی کرتے ہیں تاکہ معاشی سرگرمیاں معطل ہو سکیں۔
احمد شریف چوہدری کے مطابق ہر وہ چیز جو مقامی آبادی کو روزگار اور معاشی قوت فراہم کرتی ہے، دہشت گرد اسے نشانہ بناتے ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بلوچستان میں دہشت گردوں اور اشرافیہ کا گٹھ جوڑ ہے کیوں کہ دونوں ہی صوبے کی ترقی کے مخالف ہیں۔


