اسلام آباد: پاکستان کریئیٹو اکانومی، کلچر اینڈ ٹریڈ کونسل نے کیوان حامد راجہ کو میڈیا، تخلیقی صنعتوں اور ڈیجیٹل انوویشن کے لیے سینئر چیف ایڈوائزر مقرر کرنے کا اعلان کیا ہے۔ کونسل کے مطابق یہ تقرری پاکستان میں تخلیقی شعبے کو فروغ دینے اور اس کی عالمی سطح پر نمائندگی بہتر بنانے کی کوششوں میں اہم پیش رفت ہے۔

کیوان حامد راجہ پاکستان کی میڈیا انڈسٹری سے وابستہ ہیں اور خیبر نیٹ ورک کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اور خیبر ڈیجیٹل کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔ وہ پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کی کمیٹی آف کمپلینٹس کے رکن بھی ہیں اور میڈیا سائنسز میں وی ایف ایم کی سند رکھتے ہیں۔
کونسل کے مطابق کیوان حامد راجہ کی شمولیت سے میڈیا اور ثقافتی شعبوں میں اس کے روابط کو وسعت دینے میں مدد ملے گی۔ ان کے تجربے سے پاکستان کے اندر اور بیرون ملک نئے اشتراک اور شراکت داری کے مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے۔
کونسل کے حکام کا کہنا ہے کہ میڈیا، ڈیجیٹل جدت اور تخلیقی صنعتوں میں کیوان حامد راجہ کا تجربہ ادارے کی ترجیحات سے مطابقت رکھتا ہے۔ ان ترجیحات میں پاکستان کے ثقافتی ورثے کا فروغ، تخلیقی شعبے سے وابستہ افراد کی معاونت اور بین الاقوامی تعاون کے مواقع پیدا کرنا شامل ہیں۔
کونسل کے مطابق اس اشتراک میں ثقافتی سفارت کاری، میڈیا تعاون، ڈیجیٹل تبدیلی اور بین الاقوامی تجارت پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ ان شعبوں میں تعاون کے ذریعے پاکستان کی تخلیقی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر متعارف کرانے اور عالمی تخلیقی معیشت میں ملک کی موجودگی مستحکم بنانے کی کوشش کی جائے گی۔
پاکستان کریئیٹو اکانومی، کلچر اینڈ ٹریڈ کونسل نے کیوان حامد راجہ کو نئی ذمہ داری سنبھالنے پر مبارک باد دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ مشترکہ وژن کے تحت یہ اشتراک مؤثر اقدامات، نئے منصوبوں اور پاکستان کے لیے وسیع تر عالمی مواقع کا ذریعہ بنے گا۔
مسٹر کیوان حامد راجہ کی تقرری کونسل کے لیے ایک اور اہم سنگِ میل ہے، جس کی بنیاد اس کے بانی سید عثمان طاہر نے رکھی۔ ان کے وژن اور کاوشوں نے اس ادارے کو پاکستان کی تخلیقی صنعتوں کے فروغ کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم بنا دیا ہے۔
سید عثمان طاہر تخلیقی صنعتوں کے رہنما، ثقافتی امور کے ماہرِ حکمتِ عملی اور ماہرِ تعلیم کی حیثیت سے تخلیقی معیشت، ثقافت، فنونِ لطیفہ، ڈیزائن، تعلیم، بین الاقوامی تعلقات اور تجارت سمیت مختلف شعبوں میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ پاکستان کے تخلیقی شعبے کو عالمی منڈیوں، بین الاقوامی اداروں، کاروباری حلقوں، سرمایہ کاروں، ثقافتی تنظیموں اور سفارتی برادری سے جوڑنے کے لیے ان کی کاوشیں قابلِ ذکر ہیں۔
قومی ورثہ و ثقافت کے وفاقی وزیر کے مشیر کی حیثیت سے سید عثمان طاہر نے ثقافتی سفارت کاری، قومی ورثے کے تحفظ، بین الاقوامی ثقافتی تعاون اور ادارہ جاتی روابط کے فروغ سے متعلق مختلف اقدامات میں فعال کردار ادا کیا ہے۔ ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی اطلاعات کے مطابق، انہوں نے مختلف ممالک کے سفارتی نمائندوں سے ملاقاتیں بھی کی ہیں، جن میں پاکستان اور روس کے درمیان ثقافتی اور تعلیمی تعاون کے فروغ سے متعلق امور پر تبادلۂ خیال شامل ہے۔


