اسلام آباد: چیئرمین سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان ڈاکٹر کبیر احمد سدھو نے کہا ہے کہ انشورنس کی رسائی بڑھانے، کلیمز کی بروقت ادائیگی اور صارفین کو سستی مصنوعات فراہم کرنے کے لیے انشورنس سیکٹر کی ڈیجیٹلائزیشن ناگزیر ہے۔
ایس ای سی پی ٹاک سیریز کے تحت انشورنس مارکیٹ کی ترقی اور ڈیجیٹلائزیشن پر منعقدہ سیشن سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انشورنس سیکٹر کے اثاثے تقریباً 4 ٹریلین روپے اور سالانہ پریمیم 708 ارب روپے تک پہنچ چکے ہیں، تاہم انشورنس کی شرحِ نفوذ جی ڈی پی کا صرف 0.7 فیصد ہے۔
چیئرمین نے کہا کہ صرف 0.85 فیصد انشورنس پریمیم ڈیجیٹل ذرائع سے حاصل ہو رہا ہے، جو اس شعبے میں ترقی کے وسیع امکانات کو ظاہر کرتا ہے۔
ایس ای سی پی جدید اور صارف دوست ڈیجیٹل مصنوعات کے فروغ کے ساتھ کلیمز کی بروقت، شفاف اور منصفانہ ادائیگی کے لیے بھی اہم اصلاحات کر رہا ہے۔
سی ای او ٹی پی ایل انشورنس محمد امین الدین نے بتایا کہ ملک میں 97 فیصد گاڑیاں انشورنس کے بغیر چل رہی ہیں۔ مؤثر ڈیجیٹل نظام اور حکومتی تعاون سے 2030 تک تمام گاڑیوں کو انشورنس کوریج فراہم کی جا سکتی ہے۔
سی ای او اسٹیٹ لائف شعیب جاوید حسین نے کہا کہ ملک میں 42 انشورنس کمپنیاں کام کر رہی ہیں اور صنعت تقریباً 450 ارب روپے کے کلیمز ادا کر چکی ہے۔
انشورنس سیکٹر ملکی انفراسٹرکچر میں 200 سے 500 ارب روپے تک سرمایہ کاری کی صلاحیت رکھتا ہے۔
سی ای او ای ایف یو لائف محمد علی احمد نے بتایا کہ پنشن فنڈز کے اثاثے اگست 2026 تک 156 ارب روپے تک پہنچ گئے، جو جنوری 2021 کے مقابلے میں 333 فیصد اضافہ ہے۔
تاہم دسمبر 2025 تک رضاکارانہ پنشن اکاؤنٹس کی تعداد صرف ایک لاکھ 43 ہزار تھی۔
انہوں نے طویل مدتی سیکیورٹیز، ریٹائرمنٹ پلانز اور انشورنس پر مبنی بچت مصنوعات کے فروغ پر زور دیا۔


