اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین کی زیر صدارت اولیو کلچر پراجیکٹ کے حوالے سے اہم اجلاس ہوا۔
اجلاس میں پاکستان میں زیتون کے شعبے کے فروغ، ویلیو چین کی ترقی اور کسانوں کی آمدن میں اضافے کے لیے مختلف اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں ڈاکٹر محمد طارق کی سربراہی میں اولیو کلچر پراجیکٹ ٹیم نے منصوبے کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی بریفنگ دی۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ آئندہ تین سال کے دوران 15 ہزار ایکڑ رقبے پر زیتون کی شجرکاری کا منصوبہ ہے، جبکہ اس عرصے میں 20 لاکھ زیتون کے پودے فراہم کیے جائیں گے۔
اس موقع پر وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے کہا کہ پاکستان میں اولیو ویلیو چین کے فروغ کو قومی ترجیح بنایا جائے۔
زیتون کی شجرکاری کے ساتھ پروسیسنگ، اسٹوریج اور مارکیٹنگ پر بھی بھرپور توجہ دینا ہوگی تاکہ اس شعبے سے حقیقی معاشی فوائد حاصل کیے جا سکیں۔
انہوں نے کہا کہ کسانوں کو اولیو ویلیو چین کا مرکزی اور بنیادی فائدہ پہنچنا چاہیے۔
پوٹھوہار کے موجودہ زیتون پوٹینشل سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے۔
اولیو سیکٹر میں نجی شعبے کی سرمایہ کاری اور شمولیت بھی بڑھائی جائے۔
رانا تنویر حسین نے ہدایت کی کہ ہر اولیو کلسٹر میں ایکسٹریکشن اور پوسٹ ہارویسٹ سہولیات کی دستیابی یقینی بنائی جائے۔
انہوں نے کہا کہ زیتون کے تیل کا معیار بہتر بنانے کے لیے مؤثر ٹیسٹنگ اور اسٹوریج کا نظام ضروری ہے۔
وفاقی وزیر نے زیتون کے ضمنی اجزا کو ضائع ہونے سے بچانے اور انہیں ویلیو ایڈیشن کے لیے استعمال کرنے پر بھی زور دیا۔
انہوں نے مشینری کی ضروریات اور اخراجات کا حقیقت پسندانہ بنیادوں پر دوبارہ جائزہ لینے کی ہدایت کی۔
رانا تنویر حسین نے کہا کہ قومی اولیو ویلیو چین کسانوں کی آمدن میں اضافے کے ساتھ ملکی معیشت میں بھی اہم کردار ادا کرے گی۔


