گلگت بلتستان کو دنیا بھر میں اس کی خوبصورت وادیوں، برف پوش پہاڑوں، شفاف دریاؤں، امن، مہمان نوازی اور منفرد ثقافت کے حوالے سے جانا جاتا ہے۔ لیکن کسی بھی معاشرے کی حقیقی خوبصورتی صرف اس کے قدرتی حسن میں نہیں، بلکہ اس بات میں ہوتی ہے کہ وہاں کے بچے کس قدر محفوظ، پُراعتماد اور بے خوف زندگی گزار رہے ہیں۔
یہ سوال آج گلگت بلتستان کے ہر والدین، استاد، مذہبی رہنما، قانون نافذ کرنے والے ادارے، حکومت اور معاشرتی ذمہ دار کے سامنے کھڑا ہے کہ کیا ہمارے بچے واقعی محفوظ ہیں؟
بچوں کے ساتھ جنسی استحصال کسی ایک گھر، خاندان، اسکول یا ادارے کا مسئلہ نہیں۔ یہ پورے معاشرے کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔ اس مسئلے کی سب سے تشویش ناک صورت یہ ہے کہ بہت سے بچے خوف، دھمکی، شرمندگی، جذباتی دباؤ یا خاندان کی بدنامی کے خوف سے اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی کے بارے میں بات ہی نہیں کر پاتے۔
اس لیے ضرورت صرف اس بات کی نہیں کہ ہم بچوں کو محفوظ رکھنے کے عزم کا اظہار کریں، بلکہ ایک ایسے مؤثر حفاظتی نظام کی ضرورت ہے جو جرم ہونے سے پہلے بچے کو تحفظ فراہم کرے اور جرم کے بعد اسے فوری انصاف دلائے۔
حکومتی ذمہ داری
بچوں کے تحفظ میں سب سے بنیادی ذمہ داری حکومت کی بنتی ہے۔ گلگت بلتستان میں بچوں کے تحفظ سے متعلق قوانین اور اداروں کو محض کاغذی کارروائی تک محدود رکھنے کے بجائے عملی طور پر فعال بنانا ہوگا۔
ہر ضلع میں مؤثر Child Protection Unit قائم کیا جانا چاہیے، جہاں تربیت یافتہ چائلڈ پروٹیکشن افسران، سوشل ورکرز اور ماہرینِ نفسیات دستیاب ہوں۔
اسی طرح بچوں اور والدین کے لیے ایک 24 گھنٹے کا مفت، محفوظ اور خفیہ شکایتی نظام ہونا چاہیے تاکہ متاثرہ بچہ یا اس کا خاندان خوف کے بغیر مدد حاصل کر سکے۔
پولیس کے اندر بھی ہر ضلع کی سطح پر بچوں سے متعلق جرائم کی تفتیش کے لیے خصوصی Child Abuse Investigation Desk قائم کیے جانے چاہئیں، جہاں اہلکاروں کو بچوں سے متعلق حساس مقدمات کی تفتیش، شواہد کے تحفظ اور متاثرہ بچوں کے ساتھ مناسب رویے کی خصوصی تربیت حاصل ہو۔
اس کے ساتھ اسکولوں، مدارس، ہاسٹلوں، یتیم خانوں، کھیلوں کے اداروں اور بچوں سے متعلق دیگر مراکز میں کام کرنے والے افراد کی مناسب Background Screening بھی لازمی ہونی چاہیے۔
کسی شخص کو صرف اس بنیاد پر بچوں کے لیے محفوظ تصور نہیں کیا جا سکتا کہ وہ استاد، ملازم، مذہبی شخصیت یا معاشرے کا بااثر فرد ہے۔ اعتماد اپنی جگہ، لیکن بچوں کا تحفظ سب سے مقدم ہے۔
اسکول اور مدارس: تحفظ کی پہلی صف
تعلیمی اداروں کی ذمہ داری صرف بچوں کو کتابی علم فراہم کرنا نہیں۔ انہیں اپنی حفاظت اور ذاتی حدود کے بارے میں بنیادی آگاہی دینا بھی ضروری ہے۔
بچوں کو عمر کے مناسب انداز میں بتایا جانا چاہیے کہ ذاتی حدود کیا ہیں، کون سا رویہ نامناسب ہے اور اگر کوئی شخص انہیں خوفزدہ کرے، دھمکائے یا کسی نامناسب بات کو چھپانے پر مجبور کرے تو انہیں کس قابلِ اعتماد شخص سے مدد لینی چاہیے۔
ہر اسکول اور مدرسے میں Child Safeguarding Policy ہونی چاہیے اور ایک تربیت یافتہ Child Protection Focal Person مقرر ہونا چاہیے، جس تک بچہ براہِ راست رسائی حاصل کر سکے۔
اساتذہ کے ساتھ ساتھ ڈرائیورز، کوچز، ہاسٹل وارڈنز اور دیگر اسٹاف کی تربیت اور نگرانی بھی ضروری ہے۔
سب سے اہم اصول یہ ہونا چاہیے کہ بچے کی شکایت کو پہلے شک کی نگاہ سے نہیں بلکہ تحفظ کی نگاہ سے دیکھا جائے۔
والدین اور خاندان کا کردار
حکومت اور تعلیمی ادارے اکیلے بچوں کو محفوظ نہیں بنا سکتے۔ بچے کا سب سے مضبوط حفاظتی حصار اس کا گھر اور خاندان ہے۔
والدین کو بچوں کے ساتھ ایسا اعتماد کا رشتہ قائم کرنا چاہیے کہ بچہ کسی ناخوشگوار واقعے، خوف یا دباؤ کے بارے میں بلا جھجھک بات کر سکے۔
بچے کے رویے میں اچانک تبدیلی، کسی مخصوص شخص سے خوف، اسکول جانے سے انکار، غیر معمولی خاموشی یا گھبراہٹ جیسی علامات کو معمولی سمجھ کر نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔
اگر بچہ کسی واقعے کی شکایت کرے تو اسے ڈانٹنے، الزام دینے یا خاموش کرانے کے بجائے پہلے سکون سے اس کی بات سننی چاہیے۔
بچے کو یہ یقین دلانا ضروری ہے:
"یہ تمہاری غلطی نہیں، ہم تمہارے ساتھ ہیں۔”
والدین کا یہی ایک جملہ کسی بچے کو خوف، احساسِ جرم اور تنہائی سے نکالنے میں بنیادی کردار ادا کر سکتا ہے۔
انصاف کا نظام بچوں کے لیے آسان بنانا ہوگا
بچوں کے ساتھ جنسی استحصال کے مقدمات کا برسوں تک چلتے رہنا متاثرہ بچے کے لیے ایک نئی اذیت بن سکتا ہے۔
ضرورت ہے کہ ایسے مقدمات میں Child-Friendly Justice System کو مؤثر بنایا جائے۔ بچے کو بار بار مختلف افراد کے سامنے اپنا واقعہ بیان کرنے سے حتی الامکان بچایا جائے اور اس کے بیان کو محفوظ اور مناسب ماحول میں ریکارڈ کرنے کا نظام موجود ہو۔
تفتیش، طبی معائنے اور فرانزک شواہد کے تحفظ کے لیے بھی مربوط نظام ضروری ہے۔
ایسے مقدمات میں تاخیر کم کرنے کے لیے ترجیحی بنیادوں پر کارروائی اور مقررہ مدت میں پیش رفت کا مؤثر طریقہ کار ہونا چاہیے۔
بچے کو صرف یہ یقین نہیں چاہیے کہ مجرم پکڑا جائے گا؛ اسے یہ اعتماد بھی چاہیے کہ ریاست اس کے ساتھ کھڑی ہے۔
معاشرہ، مذہبی قیادت اور سماجی ذمہ داری
گلگت بلتستان مضبوط خاندانی، سماجی اور مذہبی اقدار رکھنے والا معاشرہ ہے۔ یہی اجتماعی قوت بچوں کے تحفظ کے لیے ایک مؤثر ذریعہ بن سکتی ہے۔
علماء، ائمہ، عمائدین، اساتذہ اور سماجی رہنماؤں کو واضح طور پر یہ پیغام دینا چاہیے کہ بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔
خاندانی عزت، رشتہ داری، معاشرتی دباؤ یا بدنامی کے خوف سے بچے کے ساتھ ہونے والے جرم کو چھپانا مسئلے کا حل نہیں۔
خاموشی مجرم کو تحفظ دیتی ہے، بچے کو نہیں۔
بچے کی عزت جرم چھپانے میں نہیں بلکہ اسے تحفظ، انصاف اور محفوظ مستقبل دینے میں ہے۔
ڈیجیٹل دنیا میں نئے خطرات
آج بچوں کے لیے خطرات صرف گلی، محلے، اسکول یا دیگر جسمانی مقامات تک محدود نہیں رہے۔ موبائل فون اور سوشل میڈیا نے بچوں کے سامنے نئے ڈیجیٹل خطرات بھی پیدا کیے ہیں۔
آن لائن Grooming، جعلی پروفائلز، نامناسب پیغامات، تصاویر یا ویڈیوز کے ذریعے بلیک میلنگ اور ذاتی معلومات حاصل کرنے کی کوششیں بچوں کو شدید خطرات سے دوچار کر سکتی ہیں۔
اس لیے والدین کے لیے Digital Parenting کی تربیت بھی ضروری ہے۔
بچوں کو سکھایا جائے کہ وہ اجنبی افراد کے ساتھ ذاتی معلومات، تصاویر یا ویڈیوز شیئر نہ کریں۔ اگر کوئی انہیں دھمکائے یا بلیک میل کرے تو خاموش رہنے کے بجائے والدین یا کسی قابلِ اعتماد شخص کو فوراً آگاہ کریں اور دستیاب شواہد محفوظ رکھیں۔
میڈیا کی ذمہ داری
بچوں کے تحفظ کے معاملے میں میڈیا کا کردار بھی انتہائی حساس اور اہم ہے۔
کسی بچے کے ساتھ زیادتی کی خبر نشر یا شائع کرتے وقت اس کا نام، تصویر، اسکول، گھر یا ایسی کوئی شناختی تفصیل سامنے نہیں آنی چاہیے جس سے متاثرہ بچے کی شناخت ظاہر ہو سکے۔
جرم کی خبر دینی ہے، بچے کی شناخت نہیں۔
میڈیا کو سنسنی خیزی کے بجائے آگاہی، احتساب اور حل پر توجہ دینی چاہیے۔
ہر واقعے کے بعد صرف یہ سوال کافی نہیں کہ جرم کس نے کیا؟
یہ سوال بھی ہونا چاہیے:
بچہ محفوظ کیوں نہیں تھا؟
متعلقہ ادارے میں حفاظتی انتظامات کیا تھے؟
پولیس نے کیا کارروائی کی؟
مقدمہ کہاں تک پہنچا؟
متاثرہ بچے کو کیا مدد فراہم کی گئی؟
آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے کیا اقدامات کیے گئے؟
محفوظ بچپن، محفوظ گلگت بلتستان: دس نکاتی ایکشن پلان
اگر گلگت بلتستان کو واقعی بچوں کے لیے محفوظ خطہ بنانا ہے تو ایک جامع "محفوظ بچپن، محفوظ گلگت بلتستان” ایکشن پلان تشکیل دیا جا سکتا ہے:
ہر ضلع میں مؤثر Child Protection Unit کا قیام۔
ہر اسکول اور مدرسے میں Child Safeguarding Policy کا نفاذ۔
پولیس میں خصوصی Child Abuse Investigation Desk قائم کرنا۔
بچوں کے لیے تیز رفتار اور Child-Friendly Justice System تشکیل دینا۔
بچوں سے متعلق اداروں میں ملازمین کی لازمی Background Screening۔
بچوں اور والدین کے لیے 24 گھنٹے کا محفوظ اور خفیہ شکایتی نظام۔
والدین، اساتذہ اور بچوں سے متعلق عملے کی مسلسل تربیت۔
علماء، عمائدین اور سماجی قیادت کے ذریعے عوامی آگاہی مہم۔
بچوں کے لیے Digital Safety Education کو تعلیمی نظام کا حصہ بنانا۔
میڈیا کے لیے ذمہ دارانہ رپورٹنگ اور مسلسل عوامی آگاہی کا جامع طریقہ کار۔
محفوظ بچپن ہی محفوظ مستقبل ہے
گلگت بلتستان کو ہم دنیا کے سامنے سیاحت، امن، خوبصورتی اور مہمان نوازی کی سرزمین کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ اسے بچوں کے لیے محفوظ معاشرے کے طور پر بھی پہچان دلائی جائے۔
کیونکہ ترقی صرف سڑکوں، پلوں، عمارتوں اور منصوبوں کا نام نہیں۔
اصل ترقی یہ ہے کہ ایک بچہ اسکول جائے تو محفوظ ہو، کھیلنے نکلے تو محفوظ ہو، آن لائن آئے تو محفوظ ہو، اپنے گھر میں محفوظ ہو، اور اگر کبھی اس کے ساتھ ظلم ہو تو اسے یقین ہو کہ اس کا خاندان، معاشرہ، قانون اور ریاست اس کے ساتھ کھڑے ہیں۔
ہمیں ایسا ماحول بنانا ہوگا جہاں بچے خاموش رہنے پر مجبور نہ ہوں، بلکہ اپنی بات کہنے کے لیے خود کو محفوظ محسوس کریں۔
ہمیں جرم چھپانے کے بجائے جرم کے خلاف آواز اٹھانا ہوگی، متاثرہ بچے کو قصوروار سمجھنے کے بجائے اسے تحفظ دینا ہوگا، اور اجتماعی خاموشی کے بجائے اجتماعی ذمہ داری کو فروغ دینا ہوگا۔
محفوظ بچپن۔۔۔ محفوظ گلگت بلتستان۔
کیونکہ آج کے محفوظ بچے ہی کل کے محفوظ، مضبوط اور ترقی یافتہ گلگت بلتستان کی ضمانت ہیں۔


