لاہور: الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان کے فلسطین اسکالرشپ پروگرام کے تحت 38 فلسطینی طلبہ نے پاکستان میں بیچلر آف ڈینٹل سرجری (بی ڈی ایس) کی ڈگریاں مکمل کرلی ہیں۔
اس کامیابی پر یونیورسٹی آف لاہور میں خصوصی تقریب منعقد ہوئی۔ تقریب میں غزہ کی جنگ، نقل مکانی اور مشکل حالات کے باوجود تعلیم جاری رکھنے والے فلسطینی طلبہ کی ہمت اور کامیابی کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔
الخدمت فاؤنڈیشن اور یونیورسٹی آف لاہور کے تعاون سے تمام 38 فلسطینی طلبہ کو بی ڈی ایس کی ڈگریاں اور ڈینٹل کٹس دی گئیں۔
اس کے علاوہ پاکستان میں ایک سالہ کلینیکل ہاؤس جاب مکمل کرنے والے 13 فلسطینی ڈاکٹروں کو انٹرن شپ سرٹیفکیٹس بھی دیے گئے۔ اس طرح تقریب میں مجموعی طور پر 51 فلسطینی طلبہ اور ڈاکٹروں کی تعلیمی کامیابیوں کو تسلیم کیا گیا۔
تقریب میں الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان کے صدر پروفیسر ڈاکٹر حفیظ الرحمٰن اور پاکستان میں فلسطین کے سفیر ڈاکٹر زہیر محمد حمداللہ زید نے شرکت کی۔
الخدمت فاؤنڈیشن کے نائب صدر ایئر مارشل ریٹائرڈ ارشد ملک، یونیورسٹی آف لاہور کے بورڈ آف گورنرز کے چیئرمین محمد اویس رؤف اور پرنسپل میڈیکل ایجوکیشن پروفیسر ڈاکٹر مہوش عروج بھی موجود تھیں۔
اس موقع پر فیکلٹی ارکان، ماہرین تعلیم اور دیگر معزز شخصیات نے بھی فلسطینی طلبہ کو ان کی کامیابی پر مبارک باد دی۔
پروفیسر ڈاکٹر حفیظ الرحمٰن نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فلسطینی طلبہ کی کامیابی غیر معمولی عزم، ثابت قدمی اور امید کی علامت ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان طلبہ نے غزہ میں جاری جنگ، نقل مکانی اور شدید ذہنی دباؤ کے باوجود اپنی تعلیم مکمل کی۔ ان کے مطابق یہ کامیابی صرف ایک تعلیمی سنگِ میل نہیں بلکہ فلسطینی نوجوانوں کی ہمت اور استقامت کا ثبوت بھی ہے۔
ڈاکٹر حفیظ الرحمٰن نے حکومتِ پاکستان اور قاہرہ میں پاکستانی سفارت خانے کے تعاون کو بھی سراہا۔ انہوں نے کہا کہ اس تعاون کے باعث فلسطینی طلبہ کو اپنی تعلیم جاری رکھنے کے لیے محفوظ ماحول فراہم کیا گیا۔
انہوں نے یقین دلایا کہ الخدمت فاؤنڈیشن فلسطین کی مکمل بحالی اور تعمیرِ نو تک فلسطینی نوجوانوں کی تعلیمی اور اخلاقی معاونت جاری رکھے گی۔
فلسطینی سفیر ڈاکٹر زہیر محمد حمداللہ زید نے الخدمت فاؤنڈیشن اور پاکستانی عوام کا شکریہ ادا کیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے فلسطینی طلبہ کے ساتھ اپنے بچوں جیسا سلوک کیا اور انہیں محفوظ تعلیمی ماحول فراہم کیا۔ ان کے مطابق نئے ڈینٹسٹ غزہ واپس جاکر زخمیوں، مریضوں اور ضرورت مند افراد کے علاج میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔
گریجویٹس کی نمائندگی کرتے ہوئے فلسطینی طالب علم احمد عطااللہ محمد جابر نے پاکستان کو اپنا دوسرا گھر قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستانی عوام کی محبت، حوصلہ افزائی اور تعاون نے طلبہ کو مشکل حالات میں امید قائم رکھنے میں مدد دی۔ ان کے مطابق گریجویٹس غزہ واپس جاکر اپنے لوگوں کی خدمت کرنا چاہتے ہیں۔
احمد عطااللہ نے کہا کہ فلسطینی طلبہ پاکستان کی مہمان نوازی اور فراخ دلی کو ہمیشہ یاد رکھیں گے۔
تقریب سے متعلق رپورٹس کے مطابق الخدمت فلسطین اسکالرشپ پروگرام کے تحت 450 سے زیادہ فلسطینی طلبہ پاکستان میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں، جبکہ مزید 38 طلبہ قاہرہ میں زیرِ تعلیم ہیں۔


