تہران/اسلام آباد: ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان پاکستان کے سرکاری دورے پر اسلام آباد کے لیے روانہ ہو گئے۔ روانگی سے قبل انہوں نے ایران اور امریکہ کے درمیان اسلام آباد مفاہمتی عمل میں پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد کی کوششیں قابل ذکر تھیں۔
ایران کے نیم سرکاری میڈیا ادارے تسنیم کے مطابق صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ان کے دورہ پاکستان کا مقصد نہ صرف پاکستان کے تعاون پر شکریہ ادا کرنا ہے بلکہ ایران امریکہ معاہدے پر عملدرآمد کا جائزہ لینا بھی ہے۔
صدر پزشکیان نے کہا کہ پاکستان نے علاقائی امن اور ایران کے جائز حقوق کے تحفظ کے لیے اہم کردار ادا کیا۔ ان کے مطابق پاکستانی قیادت اور اداروں کی کوششوں نے ایران امریکہ فریم ورک معاہدے کو آگے بڑھانے میں مدد دی۔
ڈان کے مطابق ایرانی صدر ایک روزہ سرکاری دورے پر اسلام آباد جا رہے ہیں، جہاں وہ پاکستانی قیادت سے دوطرفہ، علاقائی اور بین الاقوامی امور پر بات چیت کریں گے۔
صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ معاہدے کی تمام شقوں پر بین الاقوامی قوانین اور ایران کے جائز حقوق کے مطابق عمل ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق اس معاہدے پر مکمل عملدرآمد خطے کے کئی چیلنجز کو کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ علاقائی صورتحال میں امن و استحکام کو مضبوط بنانا ضروری ہے۔ اے پی کے مطابق ایرانی صدر کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب پاکستان تہران اور واشنگٹن کے درمیان مذاکرات میں ثالثی کے کردار سے منسلک ہے۔
ایرانی صدر کے مطابق دورہ پاکستان کے دوران تجارت، معیشت، ثقافت، سلامتی، دفاع اور وسیع تر علاقائی امن و استحکام میں تعاون بڑھانے پر بات چیت ہو گی۔
مبصرین کے مطابق یہ دورہ پاکستان اور ایران کے تعلقات میں اہم سفارتی پیش رفت سمجھا جا رہا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں۔


