کویت نے غیر ملکی سرمایہ کاروں، شراکت داروں اور ان کے اہلخانہ کے لیے 15 سالہ طویل مدتی اقامہ متعارف کرا دیا، نئے ریگولیٹری فریم ورک کی بھی منظوری دے دی گئی۔
کویت سٹی: خلیجی ملک کویت نے غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے ایک اہم اور طویل مدتی ریذیڈنسی پلان کا اعلان کر دیا ہے، جس کے تحت اہل غیر ملکی سرمایہ کاروں، ان کے شراکت داروں اور قریبی اہلخانہ کو 15 سال تک کا اقامہ دیا جا سکے گا۔
خلیجی میڈیا رپورٹس کے مطابق کویت نے اپنے ویزہ قوانین میں بڑی تبدیلی کرتے ہوئے غیر ملکیوں کے لیے 15 سالہ انویسٹمنٹ ویزہ متعارف کرایا ہے۔ اس اقدام کا مقصد کویت کو خطے میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے ایک پرکشش، محفوظ اور اہم تجارتی مرکز بنانا ہے۔
نئے ویزہ رول کے تحت مخصوص غیر ملکی افراد 15 سال تک کا طویل مدتی اقامہ حاصل کرنے کے اہل ہوں گے۔ اس سہولت سے پاکستانی سرمایہ کار بھی فائدہ اٹھا سکیں گے، بشرطیکہ وہ کویتی حکومت کی مقررہ شرائط اور سرمایہ کاری کے معیار پر پورا اتریں۔
کویت کی وزارت داخلہ کے مطابق اس ویزہ کے لیے اہل افراد میں غیر ملکی سرمایہ کار، سرمایہ کاروں کے فوری خاندان کے افراد، کویت میں کام کرنے والے منظور شدہ انویسٹمنٹ اداروں کے اعلیٰ عہدیداران اور سرمایہ کاری کرنے والے اداروں سے وابستہ تصدیق شدہ شراکت دار شامل ہوں گے۔
حکومت کی جانب سے 15 سالہ اقامہ حاصل کرنے کے لیے چند لازمی شرائط بھی رکھی گئی ہیں۔ سرمایہ کاروں کے پاس کویت ڈائریکٹ انویسٹمنٹ پروموشن اتھارٹی، یعنی کے ڈی آئی پی اے، سے منظور شدہ اور لائسنس یافتہ انویسٹمنٹ ادارہ ہونا ضروری ہوگا۔
اسی طرح سرمایہ کاروں کے لیے کویت کے اندر حقیقی اور باقاعدہ کاروباری سرگرمیاں برقرار رکھنا بھی لازمی ہوگا۔ اس کے علاوہ کاروبار میں کویتی شہریوں کو ملازمت دینے کی شرط بھی پوری کرنا ہوگی۔
شرائط کے مطابق سرمایہ کاروں کو حکومت کی منظور شدہ سرگرمیوں میں کم از کم 10 لاکھ کویتی دینار کی سرمایہ کاری کرنا ہوگی، جب کہ اتھارٹی سے لائسنس یافتہ اداروں کے لیے کم از کم 50 لاکھ کویتی دینار کی سرمایہ کاری کی مالیت برقرار رکھنا بھی ضروری ہوگا۔
کویتی وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ اس نئے ریذیڈنسی قانون کا بنیادی مقصد ملکی قیادت کے اس وژن کو آگے بڑھانا ہے جس کے تحت کویت کو ایک مضبوط مالیاتی اور تجارتی مرکز میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔
حکام کے مطابق طویل مدتی اقامہ بین الاقوامی سرمایہ کاروں کو کویت میں کاروبار قائم کرنے، سرمایہ کاری بڑھانے اور اپنے منصوبوں کو وسعت دینے کے لیے ایک محفوظ اور واضح قانونی ماحول فراہم کرے گا۔
اس اقدام سے کویتی معیشت کو تیل پر انحصار کم کرنے اور دیگر شعبوں میں سرمایہ کاری بڑھانے میں مدد ملے گی۔ ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ کویت کی معیشت کو متنوع بنانے کی سمت ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق اس تاریخی ویزہ اصلاحات کو کویتی کابینہ نے ریزولیوشن نمبر 651 آف 2026ء کے تحت باقاعدہ منظوری دی ہے۔ یہ منصوبہ وزارت داخلہ کے جنرل ڈیپارٹمنٹ آف ریذیڈنسی افیئرز اور کے ڈی آئی پی اے کے تعاون سے تیار کیا گیا ہے۔
اس نئے قانون کے بعد کویت بھی خلیج کے ان ممالک میں شامل ہو گیا ہے جو عالمی سرمایہ کاروں، کاروباری شخصیات، ٹیلنٹ اور طویل مدتی کاروباری منصوبہ بندی رکھنے والے افراد کو راغب کرنے کے لیے طویل اقامے پیش کر رہے ہیں۔


