پاکستان کی مسلسل سفارتی کوششوں اور پسِ پردہ رابطوں کے نتیجے میں امریکہ اور ایران ایک تاریخی امن معاہدے پر پہنچ گئے ہیں، جس پر 19 جون کو باضابطہ طور پر دستخط کیے جائیں گے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان کئی ہفتوں سے جاری مذاکرات کامیاب ہوگئے ہیں اور فریقین نے متعدد اہم نکات پر اتفاق کرلیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے بعد خطے میں کشیدگی میں نمایاں کمی آنے کی توقع ہے، جبکہ عالمی سطح پر بھی اس معاہدے کو امن اور استحکام کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق حالیہ مہینوں میں ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے مشرقِ وسطیٰ سمیت دنیا بھر میں تشویش پیدا کر دی تھی، تاہم مذاکرات کے کامیاب اختتام نے ایک ممکنہ بڑے تصادم کے خطرات کو کم کر دیا ہے۔
امریکہ کے معروف اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ مجوزہ معاہدے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ خود دستخط کریں گے، جبکہ بعض ذرائع کے مطابق نائب صدر جے ڈی وینس بھی اس تقریب میں امریکہ کی نمائندگی کر سکتے ہیں۔ معاہدے پر دستخط کی تقریب میں مختلف ممالک کے سفارتی نمائندوں اور عالمی تنظیموں کے عہدیداروں کی شرکت بھی متوقع ہے۔
رپورٹ کے مطابق امن معاہدے میں ایران کی جانب سے جوہری ہتھیار تیار نہ کرنے کی یقین دہانی شامل کی گئی ہے، جبکہ آبنائے ہرمز کو فوری طور پر بین الاقوامی بحری آمدورفت کے لیے مکمل طور پر کھولنے پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بحالی عالمی توانائی منڈیوں کے لیے انتہائی اہم پیش رفت ثابت ہوگی کیونکہ دنیا کے تیل کی بڑی مقدار اسی راستے سے گزرتی ہے۔


