گلگت بلتستان کے چیف الیکشن کمشنر راجہ شہباز خان نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلی سہیل آفریدی کی جانب سے لکھا گیا خط انتخابات کو متنازع بنانے کے مترادف ہے ان کا خط لکھنا غیر قانونی عمل ہے اور اس سے خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان کے عوام کے درمیان نفرت پھیلانے کی کوشش کی گئی ہے ۔
گلگت( ندیم خان) پریس کانفرنس خطاب کرتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر راجہ شہباز خان نے کہا کہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر عملدرآمد سب کے لیے یکساں ہے اور کسی بھی سیاسی جماعت یا امیدوار کو قانون سے بالاتر نہیں سمجھا جائے گا ۔
انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے اراکین اسمبلی کی آمد بھی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی تھی جبکہ دوران انتخابی مہم کسی بھی صوبے کے وزراء یا سیاسی شخصیات کو گلگت بلتستان آنے کے لیے الیکشن کمیشن سے این او سی لینا ہوگا ۔
انہوں نے کہا کہ گورنر سندھ اور دیگر وزراء کی سکردو آمد بھی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ہے جبکہ وفاقی وزیر امیر مقام این او سی حاصل کرکے گلگت بلتستان آئے تھے، چیف الیکشن کمشنر نے خبردار کیا کہ اگر کسی امیدوار نے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی تو اسے نااہل بھی قرار دیا جا سکتا ہے ۔
راجہ شہباز خان نے سیاسی جماعتوں سے پرامن انتخابات کے انعقاد میں تعاون کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ یہ آخری وارننگ ہے اور تمام امیدوار و جماعتیں انتخابی قواعد و ضوابط کی مکمل پابندی کریں ۔
انہوں نے بتایا کہ انتخابات کے لیے جامع سیکیورٹی پلان تیار کیا گیا ہے، پنجاب سے پانچ ہزار پولیس اہلکار الیکشن ڈیوٹی کے لیے طلب کیے گئے ہیں جبکہ حساس اور انتہائی حساس پولنگ سٹیشنز کی درجہ بندی بھی مکمل کر لی گئی ہے ۔
ان کا کہنا تھا کہ الیکشن سیکیورٹی کے لیے فوج طلب نہیں کی گئی، تاہم پولیس کے ساتھ گلگت بلتستان اسکاؤٹس، ایف سی اور رینجرز کے اہلکار تعینات ہوں گے ۔


