ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کر دیا ہے کہ ان کا وفد مذاکرات کے اگلے دور کے لیے پاکستان نہیں جائے گا۔ جس کے فوراً بعد پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر اور امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ میں رابطہ ہوا ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے پیر کو جاری ایک بیان میں کہا کہ موجودہ حالات میں امریکہ کے ساتھ نئے مذاکرات کا کوئی امکان نہیں ہے۔
انہوں نے تہران کا موقف واضح کرتے ہوئے کہا کہ ایران اب امریکا پر مزید اعتماد نہیں کر سکتا کیونکہ واشنگٹن کا رویہ مسلسل غیر یقینی رہا ہے۔
ترجمان ایرانی وزارت خارجہ نے امریکی انتظامیہ کے رویے پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ امریکا نے اپنے ماضی کے تجربات سے کچھ نہیں سیکھا اور وہ اب بھی وہی غلطیاں دہرا رہا ہے جو پہلے کی گئی تھیں۔
ایرانی حکام کا ماننا ہے کہ ایک طرف امریکہ مذاکرات کی دعوت دیتا ہے اور دوسری طرف ایرانی اثاثوں اور بحری جہازوں کے خلاف کارروائیاں کر کے کشیدگی میں اضافہ کرتا ہے۔
جس کے بعد برطانوی خبر رساں ایجنسی ’رائٹرز‘ نے صدر ٹرمپ اور فیلڈ مارشل عاصم منیر میں رابطے کی خبر دی۔
رائٹرز کے مطابق، فیلڈ مارشل نے امریکی صدر کو واضح کیا کہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی مذاکرات کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ جس پر ٹرمپ نے آبنائے ہرمز پر امریکی ناکہ بندی پر نظرثانی کرنے کی یقین دہانی کرا دی۔
واضح رہے کہ پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے تیاریاں عروج پر ہیں اور شہر بھر میں سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ شہر کے بڑے حصوں کو مکمل طور پر سیل کر دیا گیا ہے جبکہ بیس ہزار سیکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔


