تاریخِ انسانی میں چند تہذیبیں ایسی ہیں جو وقت کے طوفانوں، حملوں اور سلطنتوں کے زوال کے باوجود اپنی شناخت برقرار رکھنے میں کامیاب رہیں۔ ایرانی تہذیب انہی میں سے ایک نمایاں مثال ہے۔ ہزاروں برس پر محیط اس تہذیب نے نہ صرف سلطنتوں کے عروج و زوال دیکھے بلکہ بیرونی حملوں، مذہبی تبدیلیوں اور سیاسی انقلابات کا بھی سامنا کیا۔
مگر اس کے باوجود یہ تہذیب آج بھی زندہ اور متحرک ہے۔
ایرانی تہذیب کی بنیاد قدیم آریائی اقوام نے رکھی۔ ان میں میدی، پارسی اور پارتھی قبائل شامل تھے۔ ابتدا میں یہاں زرتشتی مذہب، قدیم ایرانی عقائد اور آتش پرستی رائج تھی۔ ایرانی تہذیب کا پہلا سیاسی عروج میدی سلطنت کے دور میں ظاہر ہوا۔ مگر اس تہذیب نے اپنی عالمی شان ہخامنشی سلطنت میں حاصل کی۔ سائرس اعظم کے دور میں ہخامنشی سلطنت نے پہلی مرتبہ ایران کو ایک عظیم عالمی طاقت بنا دیا۔ اس سلطنت کی حدود وسط ایشیا سے مصر اور ہندوستان کی سرحدوں تک پھیل گئیں۔ سائرس اعظم، دارا اول اور خشایارشا جیسے حکمرانوں نے نہ صرف وسیع جغرافیہ پر حکمرانی کی ۔ بلکہ مذہبی رواداری، انتظامی نظم اور ثقافتی ہم آہنگی کی مثالیں قائم کیں۔ پرسپولس جیسے شہر آج بھی اس عظیم تہذیب کی شان و شوکت کے گواہ ہیں۔
تاریخ کا پہیہ یہاں نہیں رکا۔ سکندر اعظم کی یلغار نے ہخامنشی سلطنت کو ختم کر دیا۔ بظاہر یہ ایک تہذیبی خاتمہ معلوم ہوتا تھا۔ مگر حقیقت اس کے برعکس نکلی۔ ایرانی تہذیب نے یونانی اثرات کو اپنے اندر جذب کر کے نئی شکل اختیار کر لی۔ یہی اس تہذیب کی سب سے بڑی طاقت رہی کہ یہ خود کو بدل کر زندہ رہتی ہے۔ یونانی دور کے بعد اشکانی سلطنت نے ایرانی شناخت کو دوبارہ زندہ کیا۔ اس کے بعد ساسانی سلطنت نے ایرانی تہذیب کو ایک مرتبہ پھر عروج دیا۔
ساسانی دور میں فن تعمیر، فلسفہ، طب، ریاستی نظم اور ثقافتی شناخت انتہائی مضبوط ہوئی۔ خسرو اور نوشیروان جیسے حکمران انصاف اور علم کی سرپرستی کے لیے مشہور ہوئے۔ زرتشتی مذہب ریاستی مذہب تھا اور ایرانی قومی شناخت اپنے عروج پر تھی۔ 651 عیسوی میں عرب مسلم افواج نے ساسانی سلطنت کو شکست دی۔ ایران نے اسلام قبول کیا مگر اپنی تہذیبی شناخت ختم نہیں ہونے دی۔
فارسی زبان زندہ رہی، ایرانی لباس باقی رہا، درباری نظام برقرار رہا، اور ایرانی ثقافتی روایت اسلامی دنیا میں شامل ہو گئی۔ یہی وہ مرحلہ تھا جہاں ایرانی تہذیب نے اسلام کو قبول کیا مگر اپنی روح کو برقرار رکھا۔ اسلامی دور میں ایرانی تہذیب نے نئی جہت اختیار کی۔ فارسی زبان اسلامی دنیا کی علمی زبان بن گئی۔ ایرانی مفکرین نے اسلامی فلسفہ، سائنس اور ادب کو نئی بلندی دی۔ ابن سینا نے طب اور فلسفہ کو نئی بنیاد دی۔ فردوسی نے شاہنامہ کے ذریعے ایرانی تاریخ کو زندہ کیا۔ عمر خیام نے ریاضی اور شاعری میں نام پیدا کیا۔ رومی نے تصوف کو عالمی فکر میں تبدیل کیا۔
سعدی اور حافظ نے ادب کو دوام بخشا۔ یہ تمام مفکرین مسلمان تھے مگر ان کی فکری جڑیں ایرانی تہذیب میں پیوست تھیں۔ ایران میں اہل بیت کی محبت بھی آہستہ آہستہ مضبوط ہوتی گئی۔ امام علی رضا علیہ السلام کی خراسان آمد نے اس خطے میں ایک اہم نظریاتی تبدیلی پیدا کی۔ ان کی موجودگی نے ایران میں فکراہل بیت علیہ السلام کو مضبوط بنیاد فراہم کی۔ ان کے مزاراقدس کے گرد علمی اور مذہبی مرکز قائم ہوئے اور ایرانی معاشرے میں اہل بیت سے وابستگی بڑھتی گئی۔
بعد ازاں صفوی دور میں شاہ اسماعیل صفوی نے مذھب اہل بیت کو ریاستی مذہب قرار دیا جس نے ایران کو ایک نئی مذہبی شناخت دی۔ یہی شناخت جدید ایران کی نظریاتی بنیاد بنی۔ 1979 کے انقلاب ایران نے سیاسی نظام تبدیل کیا مگر تہذیبی تسلسل برقرار رہا۔ یہ ثابت ہوا کہ تہذیبیں حکومتوں سے زیادہ دیرپا ہوتی ہیں۔ ایران کی آبادی مختلف قوموں پر مشتمل ہے۔ جن میں فارسی، آذری، کرد، بلوچ، عرب، لُر، ترکمان، گیلک اور مازندرانی شامل ہیں۔ اسی طرح یہاں مختلف مذاہب بھی موجود رہے۔ اسلام سے پہلے زرتشتیت، مانویت، مہر پرستی، بدھ مت اور عیسائیت موجود تھیں۔ اسلام کے بعد مذھب اہل بیت (شیعہ )اکثریت میں آیا۔ جبکہ سنی مسلمان، زرتشتی، یہودی، عیسائی اور بہائی بھی یہاں آباد ہیں۔
مسلمانوں کی فتح کے بعد بھی قدیم ایرانی تہذیب کے اثرات واضح رہے۔
فارسی زبان اسلامی دنیا میں پھیل گئی۔ درباری نظام ایرانی رہا۔ تصوف ایرانی رنگ میں ڈھلا۔ فارسی ادب غالب ہوا۔
حکومت کے القابات جیسے وزیر، دیوان، شاہ، امیر ایرانی روایت سے آئے۔ مغل سلطنت، عثمانی دربار اور وسط ایشیا کی ریاستوں پر بھی ایرانی تہذیب کے اثرات نمایاں رہے۔ ایرانی تہذیب کی تاریخ یہ واضح کرتی ہے کہ جنگیں سلطنتوں کو ختم کر سکتی ہیں مگر تہذیبوں کو نہیں۔ سکندر اعظم آیا، عرب آئے، منگول آئے، تیموری آئے۔ مگر ایرانی تہذیب ہر بار نئی شکل میں زندہ رہی۔ فارسی زبان آج بھی زندہ ہے۔ ایرانی ادب آج بھی پڑھا جاتا ہے۔ ثقافتی روایات آج بھی قائم ہیں۔
یہ تاریخ ایک اہم سبق دیتی ہے کہ قوموں کی اصل طاقت ان کی فوجی قوت میں نہیں بلکہ ان کی ثقافتی اور فکری بنیاد میں ہوتی ہے۔ اگر یہ بنیاد مضبوط ہو تو کوئی بھی جنگ، کوئی بھی حملہ اور کوئی بھی انقلاب کسی تہذیب کو مکمل طور پر ختم نہیں کرسکتا۔ ایران کی تہذیب دراصل آریائی، زرتشتی، ساسانی، اسلامی روایات کا ایک تسلسل ہے۔ یہی تسلسل اسے دنیا کی قدیم ترین زندہ تہذیبوں میں شامل کرتا ہے۔


