تاریخ کے اوراق میں جب بھی عالمی فتنوں کے محرکات کا جائزہ لیا جائے گا تو صہیونی مفادات کی وہ اندھی اور بے لگام دوڑ ضرور زیرِ بحث آئے گی جس نے اپنی بقا، توسیع اور غلبے کی خاطر ہر حد پار کی، اور اسی تناظر میں ایک نہایت سنگین اور چونکا دینے والا تجزیہ سامنے آتا ہے کہ ایک بوڑھے، غیر متوازن، سائیکو اور کمزور امریکی صدر کو انسانیت کی بے حرمتی کی بدنامِ زمانہ “ایپسٹین فائلز” کے ذریعے اس قدر دباؤ اور بلیک میلنگ کا نشانہ بنایا گیا کہ ڈونالڈ ٹرمپ جیسے خودسر اور متنازعہ شخص کو بھی صہیونی لابی کے سرغنہ نیتن یاہو کے ہاتھوں ایران کے خلاف ایک ایسی جنگ میں دھکیل دیا گیا جس کا مقصد نہ امریکہ کی سلامتی تھا.
نہ مغرب کی فلاح، بلکہ صرف اور صرف صہیونی ریاست کی بقا اور اس کا جغرافیائی و تزویراتی پھیلاؤ تھا، اور یہی وہ مکاری، چالاکی اور سفارتی فریب کا خطرناک ترین باب ہے جس نے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ کو آگ اور خون کے کھیل میں جھونک دیا بلکہ پوری دنیا کو ایک ایسی ہولناک کشمکش کے دہانے پر لاکھڑا کیا ہے جہاں تیسری عالمی جنگ کا خطرہ کسی بھی لمحے حقیقت کا روپ دھار سکتا ہے، ٹرمپ نے اپنی سیاسی بقا کو یقینی بنانے اور ان طاقتوں کے سامنے سرِتسلیم خم کرتے ہوئے، جنہوں نے اسے گھیر رکھا تھا، نہ صرف لاکھوں معصوم ایرانی عوام کو نشانہ بنانے والی پالیسیوں کی راہ ہموار کی بلکہ خلیج فارس میں عالمی تجارت کے توازن کو بھی تباہی کے دہانے پر پہنچایا اور انسانیت کو اس انداز میں جوہری تباہی کے قریب دھکیل دیا جیسے کہ دنیا میں اسرائیلی ایجنڈے کے سوا کوئی حقیقت باقی نہ رہی ہو، یہ محض جنون نہیں بلکہ ایک سوچا سمجھا کھیل، ایک منظم بے حسی اور ایک ایسی غداری ہے جسے آج ہر باشعور آنکھ دیکھ رہی ہے.
اب ذرا اس تضاد کو دیکھئے کہ امریکہ جو خود کو جمہوریت، آزادی اور انسانی حقوق کا علمبردار کہتا ہے، اسی ملک کی عوام نے ایک ایسے شخص کو اقتدار میں لایا جسے دنیا ایک غیر متوازن ذہن اور بے رحم بزنس مین کے طور پر دیکھتی ہے، اور اس کے اقتدار میں آتے ہی عالمی سیاست کا توازن بگڑ گیا، ماڈرن دنیا میں خودمختار ریاستوں کے اقتدارِ اعلیٰ کا تصور کمزور پڑ گیا، آزاد ممالک کی حرمت پامال ہوئی، “Might is Right” کا قدیم جاہلانہ اصول دوبارہ زندہ ہو گیا، مہذب دنیا کے تمام دعوے اور اصول تہہ تیغ ہو گئے، اور خود امریکی عوام، لاکھوں کی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے باوجود، بے بسی کی تصویر بنے رہے جہاں نہ عوامی رائے کی حرمت باقی رہی نہ جمہوری اقدار کی کوئی وقعت، جبکہ دوسری جانب ایران ہے جہاں بظاہر تھیوکریسی کا نظام ہے مگر اس کے باوجود وہاں فیصلے عوامی تائید، اجتماعی مزاج اور ایک واضح قومی بیانیے کے مطابق ہوتے ہیں، شدید ترین امریکی و اسرائیلی دباؤ، قیادت کے خلاف مسلسل حملوں، سیاسی و معاشی پابندیوں اور خطرات کے باوجود وہاں پالیسی سازی کا تسلسل برقرار ہے، جبکہ امریکہ میں “one-man show” کا تاثر ابھرتا جا رہا ہے جہاں ادارے بھی بعض اوقات بے بس دکھائی دیتے ہیں۔
ایران نے بہت پہلے یہ حقیقت سمجھ لی تھی کہ جدید جنگیں صرف روایتی افواج کے ذریعے نہیں جیتی جاتیں، چنانچہ 2003 میں عراق پر امریکی حملے سے سبق سیکھتے ہوئے، جب امریکہ نے چند ہفتوں میں صدام حسین کے کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم کو فضائی قوت سے تباہ کر دیا، ایران نے اپنی حکمتِ عملی کو مکمل طور پر تبدیل کرتے ہوئے میزائل ٹیکنالوجی کو اپنی اصل دفاعی طاقت بنا لیا اور اپنے اہم عسکری و صنعتی ڈھانچے کو زمین کی گہرائیوں میں منتقل کر دیا، اسی سلسلے میں ’یزد فورٹریس‘ جیسے مبینہ میزائل شہر قائم کیے گئے جو پہاڑوں کے اندر سینکڑوں میٹر نیچے واقع ہیں جہاں ریلوے جیسے نظام کے ذریعے میزائلوں کو براہِ راست لانچنگ پوائنٹس تک پہنچایا جاتا ہے اور یہ تنصیبات سیٹلائٹ اور فضائی نگرانی سے بڑی حد تک محفوظ سمجھی جاتی ہیں، اس کے ساتھ ساتھ ایران نے آبنائے ہرمز اور اپنی ساحلی پٹی پر اینٹی شپ میزائلوں، AI پر مبنی خود مختار ڈرونز اور چھوٹی آبدوزوں کا ایسا مربوط جال بچھایا ہے جو زیرِ آب رہ کر حملہ کرنے اور ریڈار سے اوجھل رہنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، مگر ایران کی سب سے اہم اور منفرد حکمتِ عملی “موزیک مزاحمت” (Mosaic Defense) ہے جس کے تحت پورے ملک کو خودمختار عسکری کمانڈز میں تقسیم کیا گیا ہے تاکہ اگر مرکزی قیادت سے رابطہ منقطع بھی ہو جائے تو ہر علاقائی یونٹ پہلے سے طے شدہ منصوبوں کے تحت جنگ جاری رکھ سکے، اس تصور کی عملی جھلک 2006 کی لبنان جنگ میں حزب اللہ کی کامیاب حکمت عملی میں دیکھی جا چکی ہے۔
مزید برآں ایران نے امریکی GPS کے بجائے روسی GLONASS اور چینی BeiDou سسٹمز کا استعمال بڑھایا ہے جبکہ چین کی جانب سے سیٹلائٹ ڈیٹا تک رسائی نے اس کی انٹیلی جنس صلاحیتوں کو مزید مضبوط کیا ہے اور یوں ایک وسیع تر روس-چین-ایران محور ابھرتا دکھائی دے رہا ہے جو مغربی بالادستی کے لیے ایک واضح چیلنج ہے، اسی تناظر میں ایران کے سینیئر پارلیمنٹرین ابراہیم عزیزی کا آبنائے ہرمز کے حوالے سے دو ٹوک بیان اس بدلتی ہوئی حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ اب یہ راستہ صرف انہی کے لیے ہوگا جو ایران کے قواعد کی پاسداری کریں گے اور ٹول ادا کریں گے، اور یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ عالمی تیل و گیس کی تقریباً 20 فیصد ترسیل اسی آبی گزرگاہ سے ہوتی ہے، لہٰذا یہاں کسی بھی دباؤ کے اثرات فوری طور پر عالمی منڈیوں میں محسوس کیے جا رہے ہیں، ٹریفک میں کمی، قیمتوں میں اضافہ اور توانائی کے بحران کے خدشات نے چین، بھارت، جاپان اور یورپ جیسے ممالک کو ایک نئی حقیقت کا سامنا کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔
دوسری جانب اسرائیل اور اس کے اتحادیوں کے درمیان بھی دراڑیں نمایاں ہو رہی ہیں جب اطلاعات کے مطابق فرانس نے امریکی فوجی طیاروں کو اپنی فضائی حدود دینے سے انکار کیا جس کے بعد اسرائیل نے دفاعی معاہدوں پر نظرثانی کا اعلان کیا، جبکہ امریکہ کے اندر واشنگٹن سے نیویارک تک احتجاجی لہریں اس بات کا اشارہ دے رہی ہیں کہ “Blind Support” کا دور ختم ہو رہا ہے، اور اسی دوران مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی کے تناظر میں دنیا کے ایک بڑے حصے میں ایران کو ایک “Hero” کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، خاص طور پر مزاحمتی بلاک (Axis of Resistance) کی قیادت اور فلسطینی مؤقف کی بھرپور حمایت نے مسلم دنیا اور گلوبل ساؤتھ میں اس کی مقبولیت کو بڑھایا ہے، اسی دوران امریکی وزیر خارجہ کی دھمکیاں، آبنائے ہرمز کے معاملے پر ممکنہ پسپائی، امریکی داخلی سیاست میں جے ڈی وینس جیسے رہنماؤں کی مخالفت اور نیتن یاہو پر الزامات نے اس بحران کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے، یو ایس ایس جیرالڈ فورڈ اور ابراہیم لنکن جیسے جدید طیارہ بردار جہازوں کی واپسی اور اس سے متعلق متضاد بیانات نے بھی کئی سوالات کو جنم دیا، جبکہ عالمی سطح پر کیوبا کو روسی تیل کی فراہمی، چین کی قابلِ تجدید توانائی میں تیزی، اور پیٹرو ڈالر کے مقابلے میں پیٹرو یوآن کے ابھار نے اس بات کو مزید واضح کر دیا ہے کہ عالمی نظام ایک بڑی تبدیلی کے دور سے گزر رہا ہے، اور نپولین بوناپارٹ کے اس قول “جب تمہارا دشمن غلطی کر رہا ہو تو اسے مت روکو” کو اگر آج کے حالات پر منطبق کیا جائے تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ بعض طاقتیں اپنی ہی پالیسیوں کے بوجھ تلے کمزور ہو رہی ہیں، اور ایران کے نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو اصل خطرہ بیرونی حملہ نہیں بلکہ مخالف طاقتوں کی داخلی کمزوریاں ہیں، چنانچہ یہ تمام عوامل، عسکری حکمت عملیاں، معاشی تبدیلیاں اور جیوپولیٹیکل اتحاد اس حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ دنیا ایک نئے عالمی توازن کی طرف بڑھ رہی ہے جہاں غیر متناسب جنگ، موزیک مزاحمت اور روس-چین-ایران محور امریکی یک قطبی نظام کو چیلنج کر رہے ہی۔
، اور اب یہ فیصلہ تاریخ کو کرنا ہے کہ آیا سفارت کاری اس بحران کو ٹال پائے گی یا دنیا ایک بڑے تصادم کی طرف بڑھے گی، تاہم ایک حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہو چکی ہے کہ امریکی طاقت کا وہ زعم، جس نے دہائیوں تک کمزور ممالک کو خوف میں مبتلا رکھا، اب ٹوٹ رہا ہے، وہ ہیبت جس کے سائے میں فیصلے مسلط کیے جاتے تھے اب دم توڑ رہی ہے، اور دنیا ایک ایسے دور میں داخل ہو رہی ہے جہاں خوف کی جگہ مزاحمت، دباؤ کی جگہ توازن، اور یک قطبی بالادستی کی جگہ ایک نئے کثیر قطبی عالمی نظام کی بنیاد رکھی جا رہی ہے اور ایرانی میزائیل حکمت عملی یقیناً اب امریکی بالادستی کی صدی کا خاتمہ ثابت ہو رہی ہے.


