ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران پالیسی کو سلامتی کی حکمتِ عملی کہنا حقیقت کو دھندلا دینا ہے۔ یہ پالیسی امن قائم کرنے کے لیے نہیں، خوف کو منظم رکھنے کے لیے بنائی گئی ہے۔ اس کا مقصد خطے کو محفوظ بنانا نہیں، بلکہ اسے مسلسل ایسی کشیدگی میں رکھنا ہے جہاں امریکہ اپنے آپ کو ناگزیر محافظ کے طور پر پیش کرے، اسرائیل اپنے تزویراتی مفادات سمیٹے، اور خلیجی ریاستیں اس پورے کھیل کی مالی، سیاسی اور جغرافیائی قیمت ادا کریں۔ دوسرے لفظوں میں، جنگ ایران سے لڑی جاتی ہے، مگر اس کا بل خلیج کے نام لکھا جاتا ہے۔
یہی اس پالیسی کا اصل چہرہ ہے: ٹرمپ کے نزدیک اتحادی وہ نہیں جن کے ساتھ برابری کی بنیاد پر تعلق بنایا جائے، بلکہ وہ ہیں جن سے خطرے کے نام پر رقم وصول کی جائے۔ اس کے لیے پہلے ایران کے خطرے کو زیادہ نمایاں کیا جاتا ہے، پھر خطے میں خوف اور انحصار کی فضا پیدا کی جاتی ہے، اور آخر میں یہی کہا جاتا ہے کہ اگر عرب ریاستیں امریکی سکیورٹی سے فائدہ اٹھاتی ہیں تو انہیں جنگ کے اخراجات بھی ادا کرنے چاہییں۔ بظاہر یہ دلیل سادہ اور معقول لگتی ہے، مگر حقیقت میں یہ سلامتی نہیں، سیاسی بھتہ خوری کی منطق ہے۔
وائٹ ہاؤس کے اشارے اس بات کو واضح کر چکے ہیں کہ ٹرمپ عرب ریاستوں سے صرف سفارتی حمایت نہیں، مالی شرکت بھی چاہتا ہے۔ مگر جنگ کے لیے رقم دینا کسی اکاؤنٹنگ فارمولا کا حصہ نہیں ہوتا۔ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ آپ جنگ کی سیاسی ذمہ داری میں حصہ ڈال رہے ہیں۔ جب کوئی ریاست کسی جنگ کے اخراجات اٹھاتی ہے تو وہ صرف ڈالر نہیں دیتی، وہ اپنی سیاسی حیثیت، اپنی اخلاقی پوزیشن اور اپنے سفارتی مستقبل کا ایک حصہ بھی داؤ پر لگاتی ہے۔ یعنی مالی شرکت دراصل جنگ کی سیاسی ملکیت قبول کرنے کے مترادف ہے۔
یہاں پہلی بنیادی حقیقت سمجھنا ضروری ہے: یہ جنگ امریکہ کے لیے بھی تیزی سے مہنگی ہو رہی ہے۔ ابتدائی ایام ہی میں اس کے اخراجات اربوں ڈالر تک پہنچ گئے، اور مزید بھاری وسائل مانگے جا رہے ہیں۔ یہ کسی محدود یا مختصر کارروائی کی تصویر نہیں، بلکہ ایک پھیلتے ہوئے تصادم کی علامت ہے۔ بڑی طاقتیں جب اپنی جنگ کی قیمت خود نہیں سنبھال پاتیں تو burden-sharing کی زبان بولتی ہیں۔ یہی اس وقت ہو رہا ہے۔ جنگ واشنگٹن کی ترجیح ہے، مگر اس کا خرچ عرب ریاستوں کے کھاتے میں ڈالنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔
لیکن اصل مسئلہ صرف یہ نہیں کہ امریکہ جنگ کا خرچ بانٹنا چاہتا ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ خلیج پہلے ہی اس جنگ کی قیمت ادا کر رہی ہے، چاہے اس نے جنگ چنی ہو یا نہ چنی ہو۔ شہری عدمِ تحفظ میں جی رہے ہیں، علاقائی انفراسٹرکچر دباؤ میں ہے، منڈیاں ہل رہی ہیں، توانائی کی راہیں غیر یقینی ہو رہی ہیں، اور جنگ کا سایہ روزمرہ زندگی، کاروبار، رسد اور ریاستی فیصلوں پر پڑ چکا ہے۔ یہ کوئی دور کی جنگ نہیں رہی۔ یہ پہلے ہی خلیج کے اعصاب، معیشت اور سیاست میں داخل ہو چکی ہے۔
اسی تناظر میں آبنائے ہرمز کی بندش کو سمجھنا ہوگا۔ ایران نے آبنائے ہرمز کسی سامراجی مہم جوئی یا عالمی تجارت کو یرغمال بنانے کے جنون میں بند نہیں کی۔ اس نے یہ قدم اسرائیل اور امریکہ کی مسلسل عسکری جارحیت، فضائی حملوں اور بحری دباؤ کے جواب میں اپنے دفاع کے طور پر اٹھایا۔ جب ایک ریاست پر فضا سے حملے ہو رہے ہوں، سمندر سے اس کا گلا گھونٹنے کی کوشش ہو رہی ہو، اور اسے ہر سمت سے گھیرنے کی حکمتِ عملی اپنائی جا رہی ہو، تو اس کے لیے سمندری گزرگاہ صرف تجارت کا راستہ نہیں رہتی، دفاع کا محاذ بن جاتی ہے۔ اس لیے آبنائے ہرمز کی بندش کو صرف “ایرانی جارحیت” کہنا نہ صرف سیاسی طور پر گمراہ کن ہے بلکہ واقعاتی ترتیب کو الٹ دینا بھی ہے۔
اس کے باوجود، ردِعمل کی قیمت حقیقی ہے۔ ہرمز متاثر ہوئی تو عالمی منڈیاں لرز گئیں، تیل اور ایندھن کی قیمتیں بڑھیں، توانائی کے بحران کا خوف گہرا ہوا، اور معاشی بے یقینی نے دنیا بھر میں اثرات چھوڑے۔ یعنی جنگ کی قیمت صرف بمبار طیاروں، میزائلوں اور عسکری بجٹ میں نہیں دی جا رہی، بلکہ مہنگائی، ایندھن کے جھٹکوں، سرمایہ کاری کی غیر یقینی اور عام لوگوں کی روزمرہ زندگی میں وصول کی جا رہی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں امریکہ اور اسرائیل کی جارحیت کی اصل نوعیت سامنے آتی ہے: وہ صرف ایران کو نہیں، پورے خطے اور عالمی معیشت کو عدم استحکام کی طرف دھکیل رہی ہے۔
ٹرمپ اور اس کے حامی اس کے جواب میں فوراً 1990-91 کی خلیج جنگ کی مثال لے آتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اس وقت بھی اتحادیوں نے جنگی اخراجات کا بڑا حصہ اٹھایا تھا، لہٰذا آج بھی یہی ہونا چاہیے۔ بظاہر یہ تاریخی حوالہ ان کے موقف کو جائز دکھاتا ہے، مگر دراصل یہی سب سے بڑا فریب ہے۔ 1991 اور آج کے حالات میں بنیادی فرق ہے، اور اسی فرق کو جان بوجھ کر چھپایا جاتا ہے۔
1991 میں خلیجی ریاستیں امریکی مداخلت چاہتی تھیں، کیونکہ عراق نے کویت پر حملہ کیا تھا اور مسئلہ براہِ راست ریاستی بقا کا بن گیا تھا۔ جنگ کے مقاصد نسبتاً واضح تھے، دشمن واضح تھا، اور خلیجی حکومتیں کھلے طور پر اس مداخلت کے حق میں تھیں۔ اسی لیے انہوں نے اخراجات میں حصہ بھی ڈالا۔ لیکن 1991 کا اصل سبق یہ نہیں تھا کہ عرب ریاستوں نے پیسہ دیا۔ اصل سبق یہ تھا کہ امریکہ نے جنگ لڑی، مگر خلیج نے اسے اپنے دروازے پر برداشت کیا، اپنی سلامتی کو خطرے میں ڈالا، اپنی زمین اور اپنے وسائل اس کے لیے کھولے، اور بعد میں بھی اس جنگی ترتیب کے طویل اثرات جھیلے۔
آج صورتِ حال بالکل مختلف ہے۔ آج کئی خلیجی ریاستیں کشیدگی کم کرنے، سفارت کاری بڑھانے، اور ایران کے ساتھ تعلقات کو قابو میں رکھنے کی پالیسی اپنائے ہوئے تھیں۔ یعنی آج مسئلہ یہ نہیں کہ عرب ریاستیں جنگ چاہتی ہیں اور امریکہ ان کی مدد کو آ رہا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ امریکہ اور اسرائیل ایران کے خلاف جارحیت بڑھا رہے ہیں، اور پھر خلیجی ریاستوں سے کہتے ہیں کہ اس تصادم کی قیمت بھی تم ادا کرو۔ اس لیے آج کی مالی شرکت کو alliance نہیں کہا جا سکتا؛ یہ بوجھ کی منتقلی ہے۔ یہ رضا مندانہ شراکت نہیں، دباؤ میں کی گئی شرکت ہے۔
یہاں سے ایک اور زیادہ بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے: اگر کئی خلیجی ریاستیں اس جنگ کے حق میں نہیں، تو پھر وہ اس کی قیمت ادا کرنے کی پوزیشن میں کیوں آ رہی ہیں؟ جواب خلیج میں امریکی بالادستی کے ڈھانچے میں موجود ہے۔ خلیجی ممالک بظاہر خود مختار ہیں، مگر ان کی سلامتی کی بنیادیں بڑی حد تک امریکی عسکری اور دفاعی ڈھانچے سے جڑی ہوئی ہیں: امریکی اسلحہ، امریکی دفاعی نظام، امریکی انٹیلی جنس، امریکی بحری موجودگی، امریکی فضائی اڈے، امریکی سکیورٹی گارنٹیاں۔ یہی وہ بندوبست ہے جو انہیں مکمل بے اختیار تو نہیں بناتا، مگر مکمل آزاد بھی نہیں چھوڑتا۔
اسی لیے زیادہ درست بات یہ ہے کہ خلیجی ریاستیں powerless نہیں، constrained ہیں۔ ان کے پاس agency ہے، مگر محدود agency۔ وہ فیصلے کرتی ہیں، مگر ایسے ماحول میں جہاں امریکی دباؤ، عسکری انحصار اور علاقائی توازن پہلے سے ان کے گرد موجود ہوتا ہے۔ وہ انکار کر سکتی ہیں، مگر اس کی قیمت ہے۔ وہ فاصلہ رکھ سکتی ہیں، مگر ایک حد تک۔ وہ جنگ سے بچنا چاہتی ہیں، مگر ان کا سکیورٹی ڈھانچہ خود انہیں جنگی فریم ورک کے قریب رکھتا ہے۔ یہی وہ پیچیدگی ہے جسے ٹرمپ اپنے حق میں استعمال کرتا ہے۔
یہ بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کہ امریکہ کی ایران پالیسی پر اسرائیل کی سلامتی کے تقاضوں کا گہرا اثر ہے۔ جب واشنگٹن ایران کو صرف ایک علاقائی طاقت نہیں بلکہ اسرائیلی سکیورٹی کے زاویے سے دیکھتا ہے، تو اس کی پالیسی مزید سخت، مزید عسکری اور مزید غیر متوازن ہو جاتی ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ خلیجی ریاستوں پر پڑنے والا دباؤ صرف امریکی نہیں رہتا؛ اسرائیلی ترجیحات بھی امریکی فیصلوں کے ذریعے ان پر مسلط ہونے لگتی ہیں۔ اگر عرب حکومتیں ایران کے خلاف جنگ کے اخراجات میں شریک ہوتی ہیں تو وہ صرف امریکہ کے ساتھ نہیں کھڑی ہوں گی، بلکہ ایک ایسے جنگی فریم ورک کا حصہ بن جائیں گی جس میں اسرائیلی مفادات بھی شامل ہیں۔
یہی وہ لمحہ ہے جہاں خطرہ سب سے زیادہ بڑھ جاتا ہے۔ اگر خلیجی ریاستیں جنگی اخراجات میں شریک ہوتی ہیں تو ان کا کردار متاثرہ خطے سے بدل کر شریکِ جنگ کا ہو جاتا ہے۔ ابھی وہ یہ کہہ سکتی ہیں کہ وہ براہِ راست لڑائی میں شامل نہیں۔ مگر مالی شرکت اس ابہام کو ختم کر دے گی۔ پھر ایران کے لیے انہیں صرف جغرافیائی پڑوسی یا غیر جانب دار عرب ریاستیں سمجھنا مشکل ہو جائے گا۔ وہ انہیں اس جنگ کے سیاسی اور مالی فریق کے طور پر دیکھے گا۔ یہ تبدیلی نہایت خطرناک ہوگی، کیونکہ اسی لمحے خلیج کی غیرجانبداری کی باقی ماندہ گنجائش بھی ختم ہو سکتی ہے۔
اس کے بعد نقصان صرف خارجی نہیں رہے گا، داخلی بھی ہوگا۔ عرب عوام burden-sharing یا coalition finance کی اصطلاحات میں نہیں سوچتے۔ وہ سیدھا سوال کرتے ہیں: جب ایک مسلم اکثریتی ملک پر حملے ہو رہے تھے، جب شہری مارے جا رہے تھے، جب بچے ہلاک ہو رہے تھے، جب خطہ جل رہا تھا، تب ہماری حکومت کہاں کھڑی تھی؟ یہی وہ سوال ہے جو حکمرانوں کی اخلاقی ساکھ پر ضرب لگائے گا۔ یہ بحث صرف جغرافیائی سیاست کی نہیں، اخلاقی وقار کی بھی ہے۔ اور جب جنگ کا انسانی نقصان بڑھتا ہے تو مالی شرکت کو عوام سفارتی تعاون نہیں، عملی شراکت سمجھتے ہیں۔
اس سے بھی بڑا مسئلہ مستقبل کا ہے۔ امریکہ اس خطے سے فاصلے پر ہے، اسرائیل اپنی ترجیحات کے ساتھ آگے بڑھ جائے گا، مگر خلیج اور ایران کو اسی جغرافیے میں ایک دوسرے کے ساتھ رہنا ہے۔ سمندر مشترک ہے، تجارت جڑی ہوئی ہے، توانائی کے راستے ملے ہوئے ہیں، اور جغرافیہ تبدیل نہیں ہو سکتا۔ اگر آج عرب حکومتیں ایران کے خلاف جنگ کو فنڈ کرتی ہیں تو کل کسی بھی سفارتی بحالی، اعتماد سازی یا علاقائی مفاہمت پر ایک سوال سایہ فگن رہے گا: جب ایران پر حملے ہو رہے تھے، تب آپ کس صف میں کھڑے تھے؟
لہٰذا اصل سوال صرف یہ نہیں کہ جنگ کا خرچ کون دے گا۔ اصل سوال یہ ہے کہ کون اپنی خود مختاری بیچے گا، کون اپنی سفارت کاری گروی رکھے گا، اور کون اپنی سلامتی کو امریکی رسید کے عوض کمزور کرے گا۔ اگر خلیجی ریاستیں اس جنگ کو فنڈ کرتی ہیں تو وہ سلامتی نہیں خریدیں گی۔ وہ اپنے خلاف سیاسی شکوک خریدیں گی، اپنے لیے آئندہ خطرات بڑھائیں گی، اور اپنی علاقائی پوزیشن کو خود نقصان پہنچائیں گی۔
بات آخر میں بہت سادہ رہ جاتی ہے: امریکہ شاید جنگ لڑے، اسرائیل شاید اپنے فوری فائدے سمیٹے، مگر خلیج اس کا ردِعمل اپنے اندر سہے گی۔ اگر عرب ریاستیں اس جنگ کو فنڈ کرتی ہیں تو وہ اپنے دفاع کو مضبوط نہیں کریں گی، بلکہ اپنے آپ کو ایک بڑے تصادم کا کھلا حصہ بنا دیں گی۔ اور یہی ٹرمپ کی ایران پالیسی کا اصل نام ہے: سلامتی کے نام پر انحصار، اتحاد کے نام پر ادائیگی، اور جنگ کے نام پر خلیج سے قیمت وصولی۔
اگر خلیجی ریاستیں اس جنگ کو فنڈ کرتی ہیں تو وہ سلامتی نہیں خریدیں گی، بلکہ اپنے خلاف اگلی جنگ کی بنیاد رکھیں گی۔


