ترجمان دفتر خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان چین کے شہر ارومچی میں اہم مذاکرات جاری ہیں، جن کا بنیادی مقصد افغانستان کی جانب سے دہشتگردی کا خاتمہ یقینی بنانا ہے۔
ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ مذاکرات اور سفارتکاری کو ترجیح دی ہے اور کبھی بھی بات چیت سے گریز نہیں کیا۔ انہوں نے افغان طالبان پر زور دیا کہ وہ دہشتگرد گروہوں کے خلاف مؤثر اور سخت اقدامات کریں۔
ترجمان کے مطابق وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اپنے چینی ہم منصب کی دعوت پر چین کا دورہ بھی کیا۔
طاہر اندرابی نے مزید کہا کہ پاکستان اور چین نے امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے پانچ نکاتی ایجنڈا بھی پیش کیا ہے، جس کا مقصد خطے میں امن و استحکام کو فروغ دینا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ 27 مارچ کو وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ترکی، مصر اور چین کے وزرائے خارجہ سے رابطے کیے، جبکہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل، قطر، انڈونیشیا اور ایران کے وزرائے خارجہ سے بھی اہم بات چیت کی گئی۔
ترجمان کے مطابق اسلام آباد میں مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر سرگرم سفارتکاری جاری ہے، جس میں پاکستان، مصر، ترکی اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ نے شرکت کی، اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے مشاورت کی گئی۔


