گلگت بلتستان میں بجلی کے بلوں کی عدم وصولی سے متعلق سرکاری دستاویزات میں چونکا دینے والے اعداد و شمار سامنے آئے ہیں۔ 2015-16 سے 2021-22 کے دوران واٹر اینڈ پاور ڈیپارٹمنٹ کو مجموعی طور پر 628.188 ملین روپے کی رقم وصول نہ ہو سکی، جس سے مالی نظم و ضبط پر سوالات اٹھ گئے ہیں۔
دستاویزات کے مطابق اس عرصے میں پورے گلگت بلتستان میں 3010.19 گیگا واٹ آور (جی ڈبلیو ایچ) بجلی پیدا کی گئی، جبکہ 1317.37 جی ڈبلیو ایچ یونٹس کے خلاف بلنگ کی گئی۔ مجموعی طور پر 4,119.055 ملین روپے وصول کیے گئے، تاہم ایک بڑی رقم اب بھی بقایا ہے۔
ریجن وار صورتحال
گلگت ریجن:
کل بقایا 311.597 ملین روپے ریکارڈ کیا گیا۔ آپریشن گلگت میں سب سے زیادہ 179.816 ملین روپے جبکہ نگر میں 111.156 ملین روپے بقایا ہیں۔
بلتستان ریجن:
مجموعی بقایا 128.628 ملین روپے ہے، جن میں اسکردو میں 96.716 ملین روپے بقایا سامنے آئے، جو ریجن میں سب سے زیادہ ہیں۔
دیامر-استور ریجن:
اس ریجن میں کل بقایا 187.963 ملین روپے ہے، جن میں دیامر ڈویژن کے 178.515 ملین روپے نہایت تشویشناک قرار دیے جا رہے ہیں۔
ضلع غذر کی نمایاں کارکردگی
اعداد و شمار کے مطابق ضلع غذر کی کارکردگی دیگر اضلاع کے مقابلے میں بہتر رہی۔ یہاں بقایا رقم صرف 11.915 ملین روپے ہے جبکہ 474.891 ملین روپے وصول کیے گئے۔ اس کے برعکس دیامر اور آپریشن گلگت کے بقایا جات غذر سے تقریباً 15 گنا زیادہ ہیں۔
کم بقایا والے اضلاع
ہنزہ (8.710 ملین)، شگر (3.642 ملین)، کھرمنگ (9.908 ملین) اور استور (9.448 ملین) میں بقایا جات نسبتاً کم ریکارڈ کیے گئے۔
مالیاتی ماہرین کے مطابق بقایا جات میں اضافے کی ممکنہ وجوہات میں ناقص بلنگ نظام، لائن لاسز اور کمزور ریکوری میکانزم شامل ہو سکتے ہیں۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر بروقت اصلاحات نہ کی گئیں تو محکمہ کو مزید مالی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
سرکاری اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ گلگت بلتستان میں بجلی بلوں کی وصولی ایک اہم چیلنج بن چکی ہے۔ حکام کے لیے ضروری ہے کہ ریکوری نظام کو مؤثر بنایا جائے تاکہ قومی خزانے کو نقصان سے بچایا جا سکے۔


