سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی کی آنکھ کے معائنے سے متعلق معاملے پر تحریری حکم نامہ جاری کر دیا، حکمنامہ میں کہا گیا ہے کہ بانی تحریک انصاف نے لیونگ کنڈیشن پر اظہار اطمینان کیا اور کوئی شکات نہیں کی ۔
اسلام آباد: سپریم کورٹ کے تحریری حکم نامے کے مطابق بانی پی ٹی آئی کی لیونگ کنڈیشن سے متعلق فرینڈ آف دی کورٹ نے رپورٹ جمع کرا دی جبکہ فرینڈ آف دی کورٹ اور جیل سپرنٹنڈنٹ کی رپورٹس کے بعد 23 اور 24 اگست 2023 کے حکم نامے پر عمل درآمد ہو چکا ہے ۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ بانی پی ٹی آئی کی لیونگ کنڈیشن سے متعلق معاملہ غیر موثر ہو چکا ہے، عدالت نے توشہ خانہ سے متعلق موجودہ درخواستوں کو غیر معینہ مدت تک کیلئے ملتوی کرتے ہوئے ہدایت کی کہ درخواستیں ہائیکورٹ میں مرکزی اپیل کے فیصلے کے بعد دوبارہ فکس کی جائیں گی ۔
سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے 23 اور 24 اگست 2023 کے احکامات کے احترام میں سماعت کی اور ان عدالتی سماعتوں میں کہا گیا تھا کہ مزید کارروائی سے قبل ہائیکورٹ کے فیصلے کا انتظار کیا جائے گا ۔
سپریم کورٹ کے مطابق ہائیکورٹ میں ٹرائل کورٹ کے فیصلے کے خلاف توشہ خانہ سے متعلق اپیل زیر التواء ہے اور درخواست گزار کو حق ہے کہ وہ تمام اعتراضات ہائیکورٹ کے سامنے اٹھائے ۔
عدالت نے کہا کہ حقائق سے واضح ہوتا ہے کہ بانی پی ٹی آئی نے لیونگ کنڈیشن پر اطمینان کا اظہار کیا ہے اور انہوں نے کوئی ایسی شکایت نہیں کی جس سے موجودہ سہولیات سے بڑھ کر کسی اضافی انتظام کی ضرورت ہو ۔
تحریری حکمنامے کے مطابق فرینڈ آف دی کورٹ اور جیل سپریٹنڈنٹ کی رپورٹس میں لیونگ کنڈیشن سے متعلق اطمینان کا اظہار کیا گیا ہے ۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ عدالت کو بانی پی ٹی آئی کی جیل میں رہائشی حالات سے متعلق خدشات دور ہو چکے ہیں اور 24 اگست 2023 کے حکم میں ظاہر خدشات دور ہو چکے ہیں جبکہ اس حکم کی تعمیل بھی ہو چکی ہے ۔
توشہ خانہ ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو بانی پی ٹی آئی پہلے ہی ہائیکورٹ میں چیلنج کر چکے ہیں، حتمی فیصلے کے بعد مقدمہ منتقل کرنے کی تیسری درخواست بے اثر ہو چکی ہے، جبکہ ٹرائل کورٹ پر اٹھائے گئے اعتراضات کے خلاف مرکزی اپیل ہائیکورٹ میں زیر التواء ہے ۔
سپریم کورٹ نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو مزید شکایت ہو تو متعلقہ فورم سے رجوع کریں اور درخواست گزار کے لیے مناسب ہوگا کہ وہ پہلے متعلقہ فورم سے رجوع کرے ۔


