اسلام آباد: پاکستان نے بھارت کے زیرِ قبضہ جموں و کشمیر میں علما کرام اور مساجد کی انتظامی کمیٹیوں کے ارکان کی پروفائلنگ کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ بھارتی حکومت کا یہ اقدام مذہبی آزادی اور بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ طاہراندرابی کے مطابق مودی حکومت کے اس اقدام کا مقصد مقبوضہ کشمیر کی مسلم آبادی کو خوفزدہ کرنا اور انہیں سماجی طور پر تنہا کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ علاقے میں مذہبی شخصیات سے زبردستی ذاتی معلومات، تصاویر اور پیشہ ورانہ وابستگیوں کی تفصیلات اکٹھی کرنا منظم ہراسانی کے مترادف ہے۔
طاہر اندرابی نے واضح کیا کہ اس قسم کی پروفائلنگ کا اصل مقصد عبادت گزار مسلمانوں کے دلوں میں خوف پیدا کرنا اور انہیں اپنی مذہبی آزادی کے استعمال سے روکنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدامات بھارت کی ہندوتوا نظریے اور اسلاموفوبیا پر مبنی پالیسیوں کا تسلسل ہیں۔
دفتر خارجہ کے ترجمان نے مزید کہا کہ علما کرام اور مساجد کو نشانہ بنانا بھارت کے امتیازی اور فرقہ وارانہ طرزِ عمل کا کھلا ثبوت ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام کو بین الاقوامی قوانین کے مطابق مکمل مذہبی آزادی کا حق حاصل ہے، اور اس نوعیت کے اقدامات عالمی سطح پر تسلیم شدہ قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہیں۔


