پاکستان سمیت دنیا بھر میں کشمیری آج یوم حق خودارادیت منا رہے ہیں، اس موقع پر اپنے پیغامات میں صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شپبازشریف نے کہا کہ اقوام متحدہ کی قراردادیں آج بھی مؤثر اور قابلِ عمل ہیں، بھارت کا کشمیریوں کو حقِ رائے دہی سے محروم رکھنا بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہے ۔
آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں آزادی چوک پر رات گئے مشعل بردار ریلی نکالی گئی، جس میں بھارتی مظالم کے خلاف شدید احتجاج کیا گیا۔ شرکا نے کشمیری عوام سے اظہارِ یکجہتی کیا اور مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی مذمت کی ۔
بین الاقوامی سطح پر یومِ حقِ خودارادیت منانے کا مقصد عالمی برادری کو یاد دلانا ہے کہ بھارتی غاصبیت کی وجہ سے کشمیری عوام کو آج تک اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق نہیں دیا جا سکا ۔
یوم حق خودارادیت کے موقع پر ملک بھر کے علاوہ کئی ممالک میں مختلف تقریبات، ریلیوں اور احتجاجی سرگرمیوں کا انعقاد کیا جا رہا ہے ۔
یاد رہے کہ 5 جنوری 1949ء کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایک تاریخی قرارداد منظور کی تھی، جس کے تحت کشمیری عوام کو اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنے کا حق دیا گیا تھا۔ ہر سال اس دن کو منانے کا مقصد عالمی برادری کو یہ باور کرانا ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر پر اپنی ذمہ داریوں سے چشم پوشی نہیں کر سکتی ۔
صدر مملکت اور وزیراعظم کے پیغامات: ۔
یومِ حقِ خودارادیت کے موقع پر صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے اپنے خصوصی پیغام میں کہا کہ کشمیری عوام کی حقِ خودارادیت کی جدوجہد 7 دہائیوں بعد بھی جاری ہے ۔
صدر مملکت کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے اقوام متحدہ کی قراردادیں آج بھی مؤثر اور قابلِ عمل ہیں، بھارت کا کشمیریوں کو حقِ رائے دہی سے محروم رکھنا بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہے ۔
وزیراعظم شہباز شریف نے بھی یومِ حقِ خودارادیت کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ 5 جنوری 1949 کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں میں کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کو تسلیم کیا گیا تھا ۔
انہوں نے یاد دلایا کہ یو این کمیشن برائے بھارت و پاکستان نے اس دن تاریخی قرارداد منظور کی تھی، جس کے تحت ریاستِ جموں و کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ آزادانہ اور غیر جانبدارانہ رائے شماری کے ذریعے ہونا تھا ۔


